معجزات القرآن — Page 108
”“ 213 “ 214 اس حوالے میں اُس مبارک وجود کے زمانہ کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جس کی آمد سے پہلے مقدس لوگوں یعنی مسلمانوں کے اقتدار کو یاجوج و ماجوج یا دابتہ الارض اور دجال نے نیست و نابود کر دینا تھا اور جس کے وصال کے بعد خود یا جوج ماجوج، دابتہ الارض اور دجال کا نیست و نابود ہونا مقدر تھا۔اس حوالے میں ایک دور ، دور اور نیم دور سے مراد ایک ہزار سال اور دوسو سال اور پچاس سال کا زمانہ ہے جس کی طرف قرآن شریف میں لیال عشر “ یعنی دس صدیاں اور والشفع “ یعنی دوصدیاں اور پھر " وَالوَثر “ اور ایک صدی کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے اور حدیث شریف میں اَلا يَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ یعنی ” عجائب‘ آیات کا زمانہ بارہ سوسال کے بعد شروع ہوگا۔گویا دانیال کے ان الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے پیدائش کے سال کی تعیین کی گئی یعنی وہ 1250 ہجری میں پیدا ہوں گے اور اسی حقیقت کو مکاشفہ یوحنا عارف میں ظہور نبوی کے زمانہ سے 1260 سال کی تعیین کی گئی ہے۔اور پھر اسی حوالہ میں 1290 سال کا حوالہ دے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چالیس سال کی عمر اور بعثت کا وقت دکھایا گیا ہے اور پھر 1335 سال تک انتظار کرنے کی ہدایت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کا سن دکھایا گیا ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پورے 1335 سال بعد مرفوع الی اللہ ہوئے کیونکہ حضور کا وصال 1326 ہجری میں ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ظہور ہجرت سے نو دس سال پہلے ہوا کیونکہ مکی زندگی کی نبوت کا کل عرصہ بارہ تیرہ سال کے مابین ہے اور نبوت کے ابتدائی تین چار سال اخفا کے ہیں۔نیز دانیال نبی کے الفاظ میں اس حقیقت کو بھی ظاہر کر دیا گیا ہے کہ جب وہ مبارک وجود آئے گا تو تمام انبیاء اپنی میراث میں اُٹھ کھڑے ہوں گے گویا اس کا زمانہ رجعت بروزی کا زمانہ ہوگا اور اس کی آمد زندہ شد ہر نبی به آمدنم (روحانی خزائن جلد 18 نزول المسیح صفحہ 478) کی مصداق ہوگی۔حضرت دانیال کی اس پیشگوئی کے بعد اب حضرت یسعیاہ کی پیشگوئی بھی ملاحظہ ہو۔اس پیشگوئی میں اُس ملک کی نشان دہی کی گئی ہے جس ملک میں موعود اقوامِ عالم نے پیدا ہونا تھا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔" آہ بہت سے لوگوں کا ہنگامہ ہے جو سمندر کے شور کی مانند شور مچاتے ہیں اور امتوں کا دھاوا بڑے سیلاب کے ریلے کی مانند ہے اُمتیں سیلاب عظیم کی طرح آپڑیں گی پر وہ ان کو ڈانٹے گا اور وہ دُور بھاگ جائیں گی اور اس بھوسے کی طرح جو ٹیلوں کے اوپر آندھی سے اُڑتا پھرے اور اس گرد کی مانند جو بگولے میں چکر کھائے رگیدی جائیں گی شام کے وقت تو ہیبت ہے صبح ہونے سے پیشتر وہ نابود ہیں۔یہ ہمارے غارت گروں کا حصہ اور ہم کو لوٹنے والوں کا بخرہ ہے۔آہ ! پرندوں کے پروں کے پھڑ پھڑانے کی سرزمین جو کوش کی ندیوں کے پار ہے جو دریا کی راہ سے بردی کی کشتیوں میں سطح آب پر اپلیچی بھیجتی ہے۔اے تیز رفتار پلیچیو! اس قوم کے پاس جاؤ جوز در آور اور خوبصورت ہے۔اس قوم کے پاس جو ابتدا سے اب تک مہیب نے ایسی قوم جو زبر دست اور فتح یاب ہے۔جس کی زمین ندیوں سے منقسم ہے۔اے جہان کے تمام باشند و! اور اے زمین کے رہنے والو! جب پہاڑوں پر جھنڈا کھڑا کیا جائے تو دیکھو اور جب نرسنگا پھونکا جائے تو شنو اس وقت ایک ہدیہ ربّ الافواج کے نام کے مکان پر جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت ثانیہ میں جبل الكرمل پر مسجد محمود کی تعمیر ہوئی وہاں سے رسالہ البشری کے ذریعہ قوموں کو اسلام کی دعوت دی جارہی ہے پیشگوئیاں زوالوجوہ اور اخفا پر مشتمل ہوتی ہیں۔(ابوالعطا )