معجزات القرآن — Page 110
" “ 217 جائے گالیکن باقی لوگ شہر ہی میں رہیں گے۔تب خداوند خروج کرے گا اوران قوموں سے لڑے گا جیسے جنگ کے دن لڑا کرتا تھا۔اور خداوند یروشلم سے جنگ کرنے والی سب قوموں پر یہ عذاب نازل کرے گا کہ کھڑے کھڑے ان کا گوشت سُوکھ جائے گا اور اُن کی آنکھیں چشم خانوں میں گل جائیں گی اور اُن کی زبان اُن کے منہ میں سڑ جائے گی اور اس روز خداوند کی طرف سے اُن کے درمیان بڑی ہل چل ہوگی۔اور یروشلم سے لڑنے والی قوموں میں سے جو بیچ رہیں گے سال بہ سال بادشاہ رب الافواج کو سجدہ کرنے اور عید خیام منانے کو آئیں گے۔ذکر یا باب : 14 آیت : 1 تا 16 ) اس حوالے میں تمام باتیں واضح ہیں پیشگوئیوں میں اخفاء بھی ہوتا ہے اور ان کے الفاظ بہت وسیع معانی پر مشتمل ہوتے ہیں اس جگہ سال بہ سال آنے سے مراد ایک تو حج کیلئے خانہ کعبہ کی طرف جانا ہے اور دوسرے جلسہ سالانہ مسیح موعود کی بستی میں حاضر ہونا ہے۔پھر مکاشفہ باب 21 میں لکھا ہے:۔پھر میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا ( یعنی یا جوج و ماجوج جو خشکی اور تری پر چھائے ہوئے تھے ختم ہو چکے تھے ) پھر میں نے شہر مقدس نئے یروشلم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اُترتے دیکھا اور وہ اس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے سنگار کیا ہو۔پھر میں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اُن کے ساتھ رہے گا اور اُن کا خدا “ ہوگا اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسوؤں کو پونچھ دے گا اس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔نہ آہ و نالہ نہ درد۔پہلی چیزیں جاتی رہیں گی اور جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا دیکھ میں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔میں پیاسے کو آب حیات کے چشمے سے مفت پلاؤں (مکاشفہ باب 21 آیت: 1 تا6) گا۔218 اس حوالے میں بھی نئے یروشلم سے مراد عالم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز قادیان ہے۔قرآنی آیات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ چودھویں صدی ہجری زلزلۃ الساعۃ کی صدی ہے اور پندرھویں صدی رُبع اوّل کے بعد اسلامی فتوحات کی صدی ہے۔اس صدی میں انسانیت پر بارانِ رحمت برسنا شروع ہو جائے گا اور جو قو میں روحانی طور پر مُردہ ہو چکی ہیں وہ زندہ کی جائیں گی حتی کہ مغرب میں بھی آفتاب اسلام چمک اُٹھے گا اور تثلیث پر توحید غالب آجائے گی اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اُٹھے گی اور یہ سارا انقلاب اس مبارک وجود کی پرسوز دُعاؤں اور مخلصانہ مساعی کے نتیجہ میں ظاہر ہوگا جو ملک ہندوستان کے صوبہ پنجاب میں تیرھویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا اور چودھویں صدی کے ربع اول تک وفات پا گیا۔ہاں اس کی آواز صور اسرافیل ہے جس سے مُردے زندہ ہو جائیں گے اور جوصدیوں سے قبروں میں پڑے تھے وہ قبروں سے باہر نکل آئیں گے اور خدائے رحمن و رحیم کی رحمت سے شیطان رحیم یعنی دابتہ الارض، یا شعبان مبین مرحوم ہو کر ختم ہو جائے گا۔تب ایک مذہب اسلام ہوگا اور ایک ہی پیشوا ( حضرت محمد مصطفی سایلی اینم ) ہو گا۔واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین (ماہنامہ الفرقان جون 1963 ، صفحہ 34 تا 48)