معجزات القرآن

by Other Authors

Page 93 of 126

معجزات القرآن — Page 93

”“ 183 زمین کی قسم اور جیسے اس نے اسے بچھا یا۔اور مفردات راغب میں لکھا ہے کہ الطحو کالدا خو یعنی کلخو اور دخو ہم معنی ہیں اور طلحو کے معنی ہیں بَسْطُ الشّيء وَالنَّهَابُ به یعنی کسی چیز کو پھیلا بچھا کر کشاں کشاں لئے پھرنا۔پھر اس پھر نے کے ثبوت میں حضرت امام راغب ایک شاعر کا یہ مصرع بطور شاہد پیش کرتے ہیں : طَحَابِكَ قَلْبْ فِي الْحِسَانِ طَرُوْبٌ یعنی تیرا حسینوں کو دیکھ کر آپے سے باہر جانے والا دل تجھے کہاں کہاں لئے پھرا۔اب اس حقیقت کی روشنی میں وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَهَا کے معنے یہ ہوئے کہ خود زمین اور پھر اس کو سر گرداں رکھنے والی طاقت ایک حسن ازل کے وجود کی شاہد ہے۔پھر قرآن کریم صرف اسی بیان پر اکتفا نہیں کرتا کہ زمین کسی خارجی کشش کے ہاتھوں گردش پر مجبور ہے بلکہ ساتھ ہی اس سالانہ گردش کی کیفیت بھی طلحو اور دحو کے الفاظ میں بیان فرما دی ہے کیونکہ زمین جس رنگ میں سالانہ گردش کر رہی ہے اس رنگ کی گردش کو عربی میں طلخو اور دخو سے تعبیر کیا جاتا ہے چنانچہ اقرب الموارد میں لکھا ہے يُقَالُ لِلأَعِبِ بِالْجَوْزِ أَبعِدِ الْمُدَى وَادْحُهُ یعنی اخروٹوں سے تماشہ دکھانے والے مداری سے کہا جاتا ہے کہ لمبا فاصلہ رکھ کر اخروٹوں کو چکر دو۔اب ذرا اس کیفیت پر غور فرمائیے کہ جب ایک چابک دست مداری چار پانچ اخروٹوں کو دائیں بائیں باری باری ہوا میں اس طرح پھینکے کہ اس کے ہاتھ میں ہر وقت ایک ہی اخروٹ رہے تو اخروٹوں کی آمد ورفت کی کیا صورت بنتی ہے ظاہر ہے کہ ذیل کی صورت بنے گی : “ 184 اور یہی صورت زمین کی سالانہ گردش کی ہے۔لہذا قرآن شریف سے نہ صرف زمین کی گردش ثابت ہے بلکہ اس کی دونوں گردشوں کے اسباب، فوائد اور کیفیات پر بھی قرآن کریم روشنی ڈالتا ہے: تَبَارَكَ اللهُ رَبُّ الْعَلَمِينَ کشش ثقل دور حاضر میں جہاں یہ انکشاف ہوا کہ زمین گردش کر رہی ہے وہاں یہ بھی علم ہوا کہ زمین میں کششِ ثقل پائی جاتی ہے۔ہمارے زمانے سے پہلے کسی کے تصور میں بھی یہ بات نہ تھی کہ زمین میں کششِ ثقل پائی جاتی ہے۔لیکن ہمارا وہ خدا جو خالقِ ارض و سما ہے اس نے اپنے پیارے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا تھا:۔الَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتَاهِ أَحْيَاء وَأَمْوَاتًا۔۔۔(المرسلات : 26-27) یعنی کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے زمین میں ایک ایسی کشش رکھ دی ہے جو ہر جاندار اور بے جان چیز کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔لغت عرب میں گفتِ الشّيء کے معنی ہیں ضمه إلى نَفْسه (منجد) یعنی کسی کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگانا۔سو یہ بھی قرآن شریف کا کمال ہے کہ اُس نے قریباً آج سے 1400 سال پہلے ہمیں بتادیا کہ زمین میں کششِ ثقل پائی جاتی ہے۔قرآن کریم کے دو لفظ اور زمانہ حال کی ایجادات کو عربی زبان چونکہ الہامی زبان ہے اس لئے اس میں دوسری زبانوں کے مقابلہ میں بعض ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو اُسی کے ساتھ مخصوص ہیں۔مثلاً اس کی ایک