معجزات القرآن

by Other Authors

Page 92 of 126

معجزات القرآن — Page 92

”“ 181 اور یہی الفاظ پھر سورۃ لقمان میں دہرائے ان الفاظ میں لفظ روایتی اور لفظ میں خاص طور پر قابل توجہ ہیں روایتی کے عام معنی جبال سمجھے جاتے ہیں لیکن حقیقتا جبال اور روایتی دو الگ الگ معنی پر روشنی ڈالتے ہیں۔جبال پہاڑوں کی ظاہری پر عظمت صورت کا نام ہے اور روایتی ان کی اندرونی کیفیت اور عام حیثیت پر روشنی ڈالنے کے لئے مخصوص ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس فرق کو واضح کرنے کیلئے فرمایا وَ الْجِبَالَ أَرُسُهَا یعنی جبال کو رسو بخشا گیا تو وہ روایتی کہلائے۔لہذا ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ رسو کے کیا معنی ہیں مفردات راغب میں لکھا ہے رَسَا الشَّيئ ثَبَتَ “ یعنی کسی چیز کے رسو پانے کے یہ معنے ہیں کہ اس نے قرار پایا اور ٹک گئی اور ایسے ہی رسوتُ بَيْنَ الْقَوْمِ “ کے معنے ہیں۔اَثْبَتُ بَيْنَهُمْ اِيْقَاعَ الصُّلْحِ یعنی جولوگ لڑنے لگے تھے میں نے انہیں سمجھوتہ کرا کے صلح کرادی۔پھر دوسرا لفظ تیمیک ہے یہ لفظ فعل مضارع ہے اس کی ماضی مادہ اور مصدرمید ہے جس کے معنے ہیں اضْطِرابُ الشَّيْ الْعَظِيْمِ كَاضْطِرابِ الْأَرْضِ یعنی بہت بڑی چیز کی حرکت جیسے کہ زمین کی حرکت۔مَادَتْ بِهِ الْأَرْضُ یعنی زمین نے اسے چکر دیا۔رَجُلٌ مَائد۔ایسا آدمی جس کو چکر آتے ہوں۔الْمَائِدَةُ - الدَّائِرَةُ مِنَ الْأَرْضِ یعنی زمین کا دائرہ - وَالْمَائِدَةُ الطَّبَقُ الَّذِي عَلَيْهِ الطَّعَامُ وَيُقَالُ لِكُلِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَائِدَةٌ۔یعنی وہ ظرف جس پر کھانا دھرا ہوا سے بھی مائدۃ کہتے ہیں ، اور دستر خوان اور کھانا دونوں الگ الگ بھی مائدہ کہلاتے ہیں۔اس لغوی تحقیق سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ میں یعنی الفی فی الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ (النحل : 16 ) میں مندرجہ ذیل حقائق پوشیدہ ہیں۔“ اول۔یہ کہ زمین گول ہے۔دوم۔یہ کہ گھوم رہی ہے۔182 سوم۔یہ کہ رواسی یعنی پہاڑ اس کی گردش میں توازن پیدا کرتے ہیں اور اس کو بے جا ہچکولوں سے بچاتے ہیں۔چہارم۔یہ کہ رواسی اور گردش زمین انسانوں اور حیوانوں کے لئے سامان معیشت پیدا کرنے میں ممد ہیں۔پنجم۔یہ کہ زمین کی یہ گردش چکی کی گردش کی طرح ہے کیونکہ چکی کی گردش کے متعلق بھی دَارَتِ الرّحی بولتے ہیں اور یہاں زمین کی گردش کے متعلق بھی مَادَتِ الْأَرْضُ بمعنى دَارَتِ الْأَرْضُ استعمال ہوا ہے۔لہذا زمین کی اس گردش سے مراد گر دش محوری ہے جس سے دن رات پیدا ہوتے ہیں۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ قرآن مجید میں اس گردش محوری کے علاوہ زمین کی ایک اور گردش کا بھی ثبوت ملتا ہے۔جیسے فرمایا: وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمْرُ مَرَّ السَّحَابِ (النمل: 89) یعنی جب تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو سمجھتے ہو کہ وہ ایک ہی جگہ کھڑے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑے جا رہے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ بادلوں کی حرکت محوری نہیں ہوتی۔لہذا اس آیت میں زمین کی اس گردش کی طرف اشارہ ہے جس سے فصول اربعہ پیدا ہوتی ہیں جو ایک سال میں جا کر پوری ہوتی ہیں۔نیز قرآن کریم کے ان الفاظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑوں کی زمین میں وہی حیثیت ہے جیسے بادبانوں کی کشتی میں۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ قرآن کریم زمین کی سالانہ گردش پر مزید روشنی ڈالتا ہے جیسے فرمایا۔وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذلِكَ دَحَهَا “ (النازعات : 31 ) اور پھر دوسری جگہ سورۃ الشمس میں فرمایا: وَالْأَرْضِ وَمَا طَهَا (الشمس: 7 ) ( ترجمہ: اور