معجزات القرآن

by Other Authors

Page 94 of 126

معجزات القرآن — Page 94

“ 185 خوبی یہ ہے کہ اس کے الفاظ اپنے معانی پر آپ دلالت کرتے ہیں اور اس کے اسما اپنے مسمات کی وجہ تسمیہ پر خود روشنی ڈالتے ہیں اور یہ خوبی وہ ہے جس کو قرآن کریم نے بھی عربی مبین “ کے الفاظ سے ظاہر فرمایا ہے۔سوعربی زبان کی اسی خوبی کی بنا پر قرآن کریم کے دو لفظوں رفرف اور ھدھد کی حقیقت پیش خدمت ہے۔لیکن ان الفاظ کی لغوی تحقیق سے پہلے دو باتوں کا سمجھنا ضروری ہے۔اول یہ کہ قرآن کریم میں انبیاء علیہم السلام کے جس قدر واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی حیثیت صرف تاریخی قصوں اور کہانیوں کی نہیں ہے اور نہ ہی وہ صرف ماضی کے واقعات ہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جن کا تعلق امت محمدیہ اور دشمنانِ اسلام کے مستقبل کے ساتھ ہے اور مستقبل کی ضرورت کے مطابق سابقہ انبیاء کے احوال کو الگ الگ مواقع پر بیان کیا گیا ہے۔اور دوئم یہ کہ قرآن کریم میں جزاوسز ا۔ثواب وعقاب۔حشر ونشر اور جنت و جہنم کے متعلق جس قدر آیات آئی ہیں ان سب کا ایک ادنیٰ نمونہ پہلے اس دنیا میں دکھایا جاتا ہے تاکہ وہ نمونہ بعد از موت کے احوال کے لئے ایک زندہ گواہ کا کام دے سکے۔اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ جنت کی انہار صرف اگلے جہان سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ دریائے نیل۔دریائے فرات، دریائے جیحون اور دریائے سیحون بھی انہار جنت میں سے ہیں۔( مسلم باب الجنة ) ان دو حقیقتوں کی وضاحت کے بعد لفظ رفرف اور ھدھد کی حقیقت از روئے لغت پیش خدمت ہے۔منجد میں لکھا ہے ، رَفَرَفَ الطَّائِرُ بَسَطَ جَنَاحَيْهِ وَحَرَّكَهُمَا یعنی پرندہ جب پر پھیلا کر انہیں ہلاتے ہوئے دوڑا۔عربی زبان میں اس کیفیت کو رفرف الطائر کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں گویار فرفَ الطَّائِرُ کے معنے ہیں پرندے نے اپنے پروں کو پھڑ پھڑایا اور رَفَرَفَ الشَّی ءُ صَاتَ یعنی اگر “ 186 کوئی شے آواز نکالے تو اسے بھی رفرف کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ایسا ہی لکھا ہے الرَّفْرَافُ الطَّائِرُ يُسَتُونَهُ خَاطِفُ ظِلہ۔یعنی رفراف ایک ایسے تیز پرواز پرندے کا نام ہے جس کا دوسرا نام خَاطِفُ ظلہ بھی ہے یعنی اتنا تیز پرواز کہ نگاہ اس کے سائے کا تعاقب نہ کر سکے۔ایسے ہی لکھا ہے الرَّفْرَافُ : الظَّلِيْمُ لِأَنَّهُ يَرِفُ بِجَنَاحَيْهِ ثُمَّ يَعْدُوْ یعنی شتر مرغ کو بھی رفراف کہتے ہیں کیونکہ وہ دونوں پر مارتا ہوا دوڑتا ہے۔پھر لکھا ہے الرَّفْرَفُ شِبُهُ الطَّاقِ يُجْعَل عَلَيْهَا طَرَائِفُ الْبَيْتِ یعنی وہ تختے یا پڑ چھتیاں جن پر گھر کا قیمتی سامان رکھا جاتا ہے انہیں بھی عربی زبان میں رفرف کہا جاتا ہے۔پھر اقرب میں لکھا ہے ذَاتُ الرَّفِيْفِ ـ سُفْنْ تَنْضَدُ سَفِيْنَتَانِ أَوْ ثلاث یعنی وہ شاہی کشتیاں جو دو منزلہ یا سہ منزلہ ہوں عربی میں ” ذات الرفیف“ کہلاتی ہیں۔پھر ا قرب اور منجد میں لکھا ہے کہ الرَّفْرَفُ : الْفِرَاشُ الْبَسِيطُ الْوِسَادَةُ یعنی پچھونے سرہانے کو بھی رفرف کہتے ہیں۔اور اس تکیہ کو بھی رفرف کہتے ہیں جو مسند کا کام دے۔اب ان تمام معنوں کے پیش نظر غور فرمائیے کہ قرآن کریم کے ان الفاظ میں کہ مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِ حِسَانٍ ( الرحمن : 77 ) یعنی یہ کہ جنت میں مومنوں کو ایسی رفرفیں عطا کی جائیں گی جن کا رنگ سبز ہوگا اور بناوٹ کے اعتبار سے محیر العقول ہوں گی اور صورت کے لحاظ سے نہایت حسین ہوں گی۔کس حقیقت کو پیش کیا گیا ہے؟ ظاہر ہے کہ اگر رفرف کے جملہ مفاہیم کو پیش نظر رکھا جائے تو رفرف کا نمونہ دورِ حاضر کی برق رفتار سواریاں ہیں جو اپنی بناوٹ کے اعتبار سے حسین و جمیل ہیں۔اور جب دوڑتی یا اڑتی ہیں تو پھڑ پھڑاہٹ کی آواز پیدا کرتی ہیں