معجزات القرآن — Page 35
68 80 “ 67 20 “ " سامنے آئیں جن سے معلوم ہوا کہ حروف مقطعات کا ماخذ سورۃ فاتحہ ہے۔ان اہل اللہ میں سے ایک بزرگ حضرت میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم ہیں جو دہلی کے مشہور صوفی شاعر حضرت میر درد کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے کتابچہ ”مقطعات قرآنی“ میں لکھا ہے کہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کا رحم تھا کہ کچھ مدت گزری کہ ایک دن بجلی کی طرح بلا کسی وقتی غور و خوض کے یہ ایک بالکل نئی بات میرے دل میں پڑی کہ قرآنی مقطعات دراصل سورۃ فاتحہ کے ہی ٹکڑے ہیں اور ان کی یہی اصلیت ہے پھر فرماتے ہیں:۔میں نے قرآن کھول کر کچھ تو جہ اور مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ بات صحیح ہے اور مجھے بعض قرائن اور باتیں ایسی مل گئیں جن سے مجھے انشراح صدر ہو گیا کہ تمام مقطعات صرف فاتحہ کی آیات اور فاتحہ کے الفاظ کا ( مقطعات قرآنی صفحہ 18 ) اختصار ہیں دوسرے بزرگ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی قدس سرہ ہیں۔آپ ایک صاحب کشوف ورڈ یا بزرگ تھے۔آپ نے اپنے قرآن شریف پر نوٹ دیا ہوا ہے کہ الحمد للہ کہ مجھ پر خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے یہ حقیقت منکشف فرما دی ہے کہ حروف مقطعات کا ماخذ سورۃ فاتحہ ہے اور اس پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔اس کے علاوہ بعض صحف سماوی میں مجھے یہ پیشگوئیاں ملیں کہ سورۃ فاتحہ اندر سے لکھی ہوئی ہے۔ان جملہ ارشادات کی بنا پر مجھے حروف مقطعات کی حقیقت کو پانے کیلئے سورۃ فاتحہ کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔آئیے دیکھیں کہ سورۃ فاتحہ کیا کہتی ہے ہے۔سورۃ فاتحہ اور صحف سماوی حضرت حز قیل نبی علیہ السلام کی کتاب باب 2 آیت 9-10 میں لکھا۔ا ہے۔” اور میں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھا ہوا ہے اور اس میں کتاب کا طومار ہے اور اُس نے اُسے کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔اُس میں اندر باہر لکھا ہوا تھا اور اُس میں نوحہ و ماتم اور آہ و نالہ مرقوم تھا“۔حضرت حز قیل علیہ السلام کے ان کلمات سے ظاہر ہے کہ جو کتاب ان کو دکھائی گئی وہ سورۃ فاتحہ ہی تھی۔لفظ طومار در اصل مثانی کا ترجمہ ہے۔لفظ مثانی کے معنی علاوہ دیگر معانی کے ایک یہ بھی ہیں کہ کسی شے میں بہت موڑ پائے جائیں اور وہ تہ بہ تہ ہو اور اس طرح لیٹی ہوئی ہو کہ تہ پر تہ آئی ہوئی ہو۔یہی کیفیت لفظ طومار کی ہے۔یہ لفظ جب کا غذات کے متعلق استعمال ہوتا ہے تو اس سے مراد وہ کاغذات ہوتے ہیں جو گولائی میں لیے گئے ہوں اور جنہیں کسی لمبے کھو کھلے اور گولائی رکھنے والے ظرف میں محفوظ رکھنا مقصود ہو۔سورۃ فاتحہ کی سات آیات اپنے ترکیبی ، معنوی اور عددی پہلو کے اعتبار سے بالکل اسی قسم کی کیفیت کی حامل ہیں۔اس کے علاوہ اس پیشگوئی میں کھول کر “ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔یہ الفاظ لفظ فاتحہ کا ترجمہ ہیں اور ایسے ہی اس پیشگوئی میں سورۃ فاتحہ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ صرف باہر ہی سے لکھی ہوئی نہیں بلکہ اندر سے بھی لکھی ہوئی ہے گو یا اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اس کے ظاہری کلمات عظیم الشان معارف کے حامل ہیں اسی طرح اس کے کلمات کے اعداد بھی عظیم الشان معارف مخفیہ کے حامل ہیں۔اور پھر اس