معجزات القرآن — Page 34
”“ 59 65 راقم الحروف ان تمام سورتوں میں جن میں حروف مقطعات آئے ہیں متواتر کئی سال تک تدبر کرتا رہا تا معلوم ہو کہ ملت اسلامیہ کی عمر کتنی ہے لیکن یہ مشکل حل نہ ہوئی کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تک کتنا زمانہ گزر چکا تھا اس وقت تک کوئی نتیجہ اخذ کر نانا ممکن تھا البتہ چند حقائق قطعی طور پر میرے سامنے آگئے۔اول: یہ کہ سورۃ یونس سے پہلے جتنی سورتیں ہیں ان کا تعلق ایسے زمانے سے ہے جب اسلام دنیا میں ظاہر نہ ہوا تھا یا یہ کہ جب اسلام دنیا سے اُٹھ جائے گا۔دوم: یہ کہ سورۃ یونس سے لے کر سورۃ حجر تک جتنی سورتیں ہیں یہ اسلام کی نشاۃ اولیٰ کو ظاہر کرتی ہیں۔سوم : یہ کہ سورۃ طہ اپنے عدد چودہ کے مطابق بلا شبہ چودھویں صدی کے آغاز کو ظاہر کرتی ہے۔اس کا اندرونی مضمون بھی اسی حقیقت کا شاہد ہے۔چہارم : یہ کہ سورۃ پخل ، بنی اسرائیل، کہف اور مریم ان سب کا زمانہ سورۃ طہ کے ماقبل کے زمانے سے ہے۔پنجم : یہ کہ یہ پانچوں سورتیں یعنی نحل ، بنی اسرائیل، کہف ، مریم اور طہ سورۃ حجر کے تحت آئی ہیں اور ان کا زمانہ وہی ہے۔جو سورۃ حجر کا ہے۔ششم: یہ کہ سورۃ ابراہیم تک 1195 سال کا زمانہ سامنے آتا ہے۔گویا ایک الف کے بعد 195 سال زائد دکھائے گئے اور یہ 195 کے اعداد سورۃ مریم کے حروف مقطعات کے اعداد ہیں جو کہ کھیعص ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ سورۃ مریم کا دور ہزار سال کے بعد شروع ہو رہا ہے اور حضرت مجددالف ثانی اس دور کی اولین شخصیت ہیں۔ہفتم : یہ کہ خلافت محمدیہ کا حساب سورۃ یونس سے شروع ہورہا ہے۔خود سورۃ یونس کا مضمون اسی حقیقت کا حامل ہے۔“ 66 60 ہشتم : یہ کہ حروف مقطعات میں ایک اور ایسا سلسلہ پایا جاتا ہے جو حروف خم کے تحت آیا ہے۔یہ حروف سات سورتوں میں متواتر آئے ہیں۔اس تسلسل سے معلوم ہوا کہ یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے حامل ہیں۔حروف لحم سب سے پہلے سورۃ مومن میں ہیں اور اس سورۃ سے پہلے سورہ زمر آئی ہے۔اس سورت کا اختتام وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلهِ رب العلمین کے الفاظ پر ہوا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ سورۃ یونس میں جو یہ عہد باندھا گیا تھا کہ وَاخِرُ دَعُوهُمْ آنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ یہاں اس عہد کا ایفا دکھایا گیا ہے اور حروف خم O آنِ الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کا خلاصہ ہیں۔نهم : یہ کہ حرف ”ص کسی نہ کسی مامور من اللہ کی زندگی کا آئینہ دار ہے۔یہ حقیقت ان سورتوں کے مضامین سے واضح ہوتی ہے جن میں حرف ص “ آیا ہے۔دہم : یہ کہ الحد والی سورتوں کا تعلق حرف ص سے ہے اور طواسیم کا تعلق حرف طا سے ہے۔وو یہاں ایک اہم بات بیان کرنے سے رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ جس طرح سورہ یونس سے سورہ حجر تک حروف مقطعات کے اعداد 1426 ہیں اسی طرح سورہ یونس کی پہلی آیت تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيم کے اعداد بھی 1426 ہیں اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ لفظ یونس کے اعداد 126 ہیں۔گویا یہاں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ سورتیں 1300 سال پھر 26 سال اور پھر 100 سال کے کوائف کی آئینہ دار ہیں یعنی یہاں 1326 ہجری کے بعد جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا سن وصال ہے۔اس پر پورا ایک سوسال زائد دکھایا گیا ہے۔اس کے علاوہ اور کچھ معلوم نہ ہوسکا اس لئے اس مقام پر راقم الحروف کئی سال تک ورطہ حیرت میں رہا جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ تھی۔پھر ایک مدت کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ بعض اہل اللہ کی ایسی تحریرات میرے