معجزات القرآن

by Other Authors

Page 22 of 126

معجزات القرآن — Page 22

”“ بظاہر بڑا مشکل ہے۔41 حقیقت یہ ہے کہ قرآن شریف ایک ذوالوجوہ اور ذوالمعارف کتاب ہے۔اس کی ترتیب کے کئی پہلو ہیں۔ایک پہلو وہ تھا جب وہ نازل ہوئی تھی۔اس وقت ، وقت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس ترتیب سے نازل ہو کہ جس ترتیب سے نازل ہوئی۔دوسرا پہلو تر تیب وضعی کا ہے۔یہ پہلو دراصل ایسا ہے جیسے کوئی ماہر موجد کسی اپنی مشین میں گل پرزے لگاتا ہے اور پھر اس کی مشینری کام کرنے لگ جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ کوئی ایسا انسان جو اُس مشینری کی حقیقت سے بے خبر ہے اس کے کل پرزوں کی ترتیب کو نہیں سمجھ سکتا۔میرے نزدیک قرآن شریف کی ترتیب وضعی ایک روحانی ترتیب ہے جس کا ادراک صرف اہل اللہ ہی کر سکتے ہیں۔اس ترتیب کو زمانہ سے کوئی تعلق نہیں۔قرآن شریف کی تیسری ترتیب زمانی ہے اور یہ ترتیب حروف مقطعات کی روشنی میں حاصل ہوتی ہے۔اگر اس ترتیب کو مد نظر رکھا جائے تو قرآن شریف پر جس قدر بھی بے ترتیبی کے اعتراضات وارد ہو سکتے ہیں سب رفع ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کی افادی حیثیت کو شرف قبولیت بخشے۔اسے نافع الناس بنائے اور قرآن کریم کی اعلیٰ اور ارفع شان کے اظہار کیلئے اسے ایک روشن مینار کا مقام عطا فرمائے۔آمین۔رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ “ عمر دنیا (روایات کی روشنی میں) 42 عمر دنیا سے ہماری مراد زمین و آسمان کی پیدائش نہیں ہے اور نہ ہی انسان کی ابتدائی تخلیق بلکہ اس سے مراد شجرہ تخلیق انسان کا پختہ پھل یعنی ہمارے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت صغریٰ یا قیامت کبری تک کا زمانہ ہے سو اس دور کے متعلق اسلامی نظریہ حسب ذیل ہے۔ا۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آدم سے لے کر آخیر تک عمر دنیا سات ہزار سال ہے چنانچہ حکیم ترندی نے نَوَادِرُ الأُصُولِ “ میں لکھا ہے کہ سب سے زیادہ گنہگار انسان دوزخ میں اتنا عرصہ رہے گا جتنا عرصہ کہ مخلوق کی پیدائش سے لے کر اُس کے فنا ہو جانے تک کا ہے اور وہ سات ہزار سال ہے۔(بحجم الکرامہ صفحہ 38) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سات ہزار سال کا اندازہ قرآن شریف کی آیت ان يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (الحج: 48) ( ترجمہ: یقینا تیرے رب کے پاس ایسا دن بھی ہے جو اس شمار کے مطابق جو تم کرتے ہو ایک ہزار برس کا ہے) کے پیش نظر لگایا گیا ہے۔جب خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک دن ہزار سال کا ہے تو ظاہر ہے کہ ہمارے سات دن کے مقابلے میں سات ہزار سال دیئے جائیں لیکن سات ہزار کے لفظ سے یہ مستبط نہیں ہوتا کہ ضرور پورے سات ہزار برس پورے کر کے قیامت آجائے گی۔وجہ یہ ہے کہ اول تو یہ امر مشتبہ رہے گا کہ اس جگہ خدا تعالیٰ نے سات ہزار سال سے شمسی مدت مراد لی ہے یا قمری حساب کی عمر شمسی حساب