معجزات القرآن

by Other Authors

Page 23 of 126

معجزات القرآن — Page 23

" “ 43 سے اگر سات ہزار سال ہو تو قمری حساب سے دوسو برس اور اوپر جائیں گے اور ماسوا اس کے چونکہ عرب کی عادت میں یہ داخل ہے کہ وہ کسور کو حساب سے ساقط رکھتے ہیں اور مخل مطلب نہیں سمجھتے اس لئے ممکن ہے سات ہزار سال سے اس قدر زیادہ بھی ہو جائے جو آٹھ ہزار تک نہ پہنچے۔مثلاً دو تین سو برس اور زیادہ ہو جائیں۔اسلام کی دونشا تھیں چودھویں صدی میں یہ احساس عام ہو گیا ہے کہ ملت میں پھر بیداری کے آثار پیدا ہورہے ہیں اور غیر مسلم قو میں بھی یہی محسوس کر رہی ہیں کہ مسلمان پھر بیدار ہور ہے ہیں لیکن باوجود اس احساس کے مسلمانوں میں ابھی یہ شعور پیدا نہیں ہوا کہ یہ بیداری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کی آئینہ دار ہے۔دیکھیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام ہیں یعنی محمد اور احمد اور یہ دونوں نام اپنی ذات میں اسلام کی دو نشاتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔لفظ محمد محجلالی شان کا حامل ہے اور لفظ احمد جمالی شان کا۔چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت سے محمد کی جلال کے ظہور کا آغاز ہوا اور یہ قریباً ہزار سال تک قائم رہا۔بعد میں تین سو سال کا عبوری دور آیا پھر جمالی شان کا رنگ شروع ہوا۔جمالی اور جلالی شانوں میں فرق یہ ہے کہ جلالی دور میں طاقت کا جواب طاقت سے دینا پڑا اور جب جنگ ناگزیر ہوگئی تو جنگ سے ہی کام لینا پڑا۔اس کے برعکس جمالی شان کا تعلق صرف براہین و دلائل سے ہے۔اس دور میں اسلام نے بجائے دفاع کے دوسری قوموں پر دلائل عقلیہ سے حملہ کیا نہ کہ سیف وسنان سے ایسے ہی لفظ مکہ اور مدینہ میں بھی یہی اشارات پائے جاتے ہیں مکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نشاۃ اولیٰ کا مظہر ہے اور مدینہ نشاۃ ثانیہ کا۔ملکہ کو قرآن شریف نے بکتہ کہا ہے اور لغت میں اس لفظ کے متعلق لکھا ہے کہ:۔“ 44 سميت بذلك لا نُدِحَامِ النّاسِ وَيُقَالُ سُمِيَتْ لا نَّهَا كَانَتْ تبكُ أَعْنَاقَ الْجَبَابِرَة۔۔یعنی اس کا نام بلکہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس میں لوگوں کا ازدحام اور ہجوم ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بکتہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ گردن کشوں کی گردنیں توڑتا ہے۔اور پھر لغت میں یہ بھی لکھا ہے کہ بَكَهُ زَاحَمَهُ، وَبَكَ عُنُقَهُ دَقَهَا یعنی بکتہ کے یہ بھی معنی ہیں کہ اس نے مخالفت کی مزاحمت کی اور اس کی گردن توڑ دی۔اور ایسے ہی لکھا ہے:۔تبَاكَتِ الْإِبِلُ عَلَى الْحَوْضِ تَزَاحَمَتْ یعنی اونٹوں نے پیاس کے مارے حوض پر ایک دوسرے کی مزاحمت کرتے ہوئے ہجوم کیا۔(اقرب الموارد) سوان جملہ معانی کا جز ومشترک یہ ہے کہ یہ شہر مرجع خلائق ہوگا اور اگر اس کے مقابل کوئی سرکشی دکھائے گا تو یہ اس کے سر کو توڑ دے گا۔لہذا یہ معنی دفاع (Defence) کے ہیں۔سونشاۃ اولیٰ کا مقام بھی یہی رہا ہے جب ان پر ظلم ہوا تو انہیں تلوار اٹھا لینے کی اجازت دے دی گئی۔اس کے مقابل لفظ مدینہ تہذیبی ترقی اور اعلیٰ تمدن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔سو اسلام کی نشاۃ ثانیہ بھی اس حقیقت کی مظہر ہے۔ایسے ہی سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بُرَكُنَا حَوْلَہ۔( بنی اسرائیل : 2 ) کے الفاظ میں بھی دو نشاتوں کی طرف اشارہ ہے۔مسجد حرام کا لفظ نشاۃ اولی کے لئے ہے اور مسجد اقصیٰ کے الفاظ نشاۃ ثانیہ کے لئے ہیں اور اس مسجد کے ساتھ بَارَكُنَا حَوْلَهُ بڑھایا گیا ہے تا کہ یہ اشارہ ہو کہ نشاۃ ثانیہ جامع البرکات ہے۔اس موقع پر یہ امر قابل ذکر ہے