معجزات القرآن

by Other Authors

Page 21 of 126

معجزات القرآن — Page 21

“ 39 39 کی وفات کے بعد عام الحزن کی صورت میں سامنے آئے۔ملت میں یہی تین راتیں یا یہی تین سال یعنی گیارھواں ، بارھواں اور تیرھواں سال گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں صدی کی صورت میں سامنے آئے۔سورۃ فاتحہ اس دور کو لفظ ”صراط سے تعبیر کرتی ہے اس لفظ کے اعداد پورے تین سو ہیں۔66 چوتھا دور مدنی زندگی کا ہے۔سورۃ فاتحہ اس دور کو لفظ اھل“ سے تعبیر کرتی ہے۔اس لفظ کے اعداد پورے دس ہیں اور یہ وہی دس سال ہیں جو حضور نے مدینہ میں گزارے۔ملت میں یہی لفظ نشاۃ ثانیہ کا مظہر ہے۔گویا اسلام کی نشاۃ ثانیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی نشاۃ ثانیہ کی جو مدینہ سے شروع ہوئی ظل محدود ہے۔خلاصہ یہ کہ اس طویل جدوجہد کے نتیجے میں ایسے لطیف اور دقیق معارف حاصل ہوں گے جو انسان کے وہم وگمان سے بالاتر ہیں۔حروف مقطعات سورۃ فاتحہ کی جو ام الکتاب بھی کہلاتی ہے بیٹیاں ہیں اور سارا قرآن شریف انہیں کے اشارے کے مطابق چل رہا ہے جب یہ کسی سورت کا کسی معین زمانے سے لگاؤ دکھاتی ہیں تو کتاب مکنون کے چہرے پر جو زمانے کا پردہ پڑا ہوا ہے وہ پردہ اُٹھ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قول و فعل میں مطابقت پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کا فعل اس کے قول کی تفسیر کرتا ہے اور قول فعل کی تفسیر کرتا ہے اور پھر ایسے لطیف و دقیق مضامین سامنے آجاتے ہیں جو اپنے حسن و جمال میں لُؤْلُو مَّكْنُون کے مشابہ ہوتے ہیں۔سوکتاب ھذا قرآن کریم میں تدبر کے لئے ایک نئے زاویہ فکر کی حامل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ہرنئی بات جو پہلے کبھی نہ کہی گئی ہو اُس میں اجنبیت اور بیگانہ پن کا احساس ضرور ہوتا ہے۔پس اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے بھی یہ احساس ضرور کار فرما ہو گا مگر یہ احساس صرف اس وقت تک رہے گا جب تک یہ کتاب جزوی طور پر زیر “ 40 مطالعہ رہے گی لیکن اگر ساری کتاب کا آخر تک مطالعہ کیا گیا تو پھر انشاء اللہ یہ احساس اجنبیت جاتا رہے گا اور اس کی بجائے قرآنِ کریم کا ایک ایسا معجز نما پہلو سامنے آجائے گا جو اس سے پہلے ملت اسلامیہ کی 1400 سالہ تاریخ میں کبھی سامنے نہیں آیا۔اس پاک کتاب کے بارے میں اس دنیا میں متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ایک طرف کفار ہیں کہ اسے أَسَاطِيرُ الْاَولین قرار دیتے ہیں۔ایسے ہی ولیم میور کا قول ہے کہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن دو ہیں۔محمد کی تلوار اور محمد کا قرآن لائف آف محمدؐ۔صفحہ 535 ایڈیشن 1877ء ) نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلك۔دوسری طرف مومنین ہیں جو اسے ایک بے مثال کتاب قرار دیتے ہیں لیکن ان میں سے بھی بعض کا کہنا ہے کہ قرآن میں ہمیں تو کوئی خاص معجز نمائی نظر نہیں آتی ( بحر محیط صفحہ 8) ایسے ہی ہمارے زمانے کے ایک ماڈرن مولوی یعنی ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کا کہنا ہے کہ قرآن کریم آسمانی کتاب میں نہ تصنیفی ترتیب پائی جاتی ہے اور نه کتابی اسلوب تفہیم القرآن مقدمہ صفحہ 20 طبع 1951ء) مودودی صاحب کا یہ موقف نہایت افسوسناک ہے وہ اپنی تحریروں اور تقریروں کو تو مرتب سمجھتے ہیں لیکن کتاب اللہ کو غیر مرتب قرار دیتے ہیں۔ادب کا مقام تو یہ ہے کہ وہ اور ان کے ہم نو ا علماء بجائے کتاب اللہ کو غیر مرتب قرار دینے کے اپنے ذہن کو نارسا قرار دیتے اور اعتراف کرتے کہ ہم اس بے نظیر کتاب کی ترتیب کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔بعض علماء نے قرآن شریف کو ایک مرتب کتاب قرار دیا ہے اور اسے مرتب ثابت کرنے کیلئے اپنے اپنے رنگ میں مختلف تو جیہات سے کام لیا ہے لیکن ان علماء میں کوئی دو عالم بھی ایسے نہیں ہیں جو باہم متحد ہوں۔ہر ایک کا اپنا اپنا رنگ اور اپنا اپنا نظریہ ہے۔لہذا اس امر کا قطعی ثبوت مہیا کرنا کہ قرآن شریف ایک مرتب کتاب ہے