معجزات القرآن — Page 69
”“ " 66 وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ “ (توبه : 129) 135 یعنی اگر کوئی نہیں مانتا تو مجھے کیا پرواہ۔میرا خدا مجھے کافی ہے۔وہ تو ایک عظیم الشان سلطنت کی ربوبیت فرمانے والا ہے۔چنانچہ اس اعلان کے بعد آگے سورۃ یونس سے ملتِ اسلامیہ کی روحانی سلطنت کا آغاز ہوتا ہے۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے دو اہم اعلان فرمائے ہیں۔اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے شمس کو ضیا اور قمر کو نور بنایا ہے اور اُس کی مختلف منازل مقرر کی ہیں تا کہ تم مشمسی اور قمری حساب کو سمجھ سکو۔دوم یہ کہ اس سورۃ میں اعلان فرمایا کہ ہم نے تمہیں خَلائِفَ فِي الْأَرْضِ بنایا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ تم کیا کر دار ادا کرتے ہو۔سورۃ یونس کے حروف مقطعات الف ، لام ، را، ہیں۔ان کی عددی قیمت 231 ہے یہ اعداد اسلام کے ابتدائی 231 سالہ دور کے آئینہ دار ہیں۔اس عہد میں مسلمانوں کو اسلام سے انس رہا۔سورۃ یونس کے بعد سورۃ ہود ہے۔اس کے حروف مقطعات بھی الف۔لام۔را ہیں۔اس کا زمانہ 231 سے 462 سال تک کا ہے۔اس سورۃ کے عہد میں ملتِ اسلامیہ خیر القرون کے زمانہ سے نکل کر فیج اعوج میں داخل ہوئی اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔شَيَّبَتُنِي هُود (ابن کثیر تفسیر سورۃ ہود) 6660 یعنی مجھے سورۃ ہود نے بوڑھا کر دیا۔سورۃ ہود کے بعد سورۃ یوسف ہے اس کا زمانہ 462 ھ سے 693 ہجری تک ہے۔گویا اس سورۃ میں ساتویں صدی قریب الاختتام ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ میں دکھایا گیا ہے کہ سات موٹی گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیوں کو سات سوکھی بالیاں کھا رہی ہیں۔گویا یہ اعلان ہے کہ اسلام کی سات موٹی “ 136 صدیاں یہاں ختم ہو رہی ہیں اور آئندہ سات صدیاں آہستہ آہستہ ذلت اور پستی کی طرف جائیں گی اور چودھویں صدی میں یہ پستی اپنی انتہا کو جا پہنچے گی لیکن یہی صدی نصرت الہی کا ابتدائی نقطہ ہوگی۔سورۃ یوسف کے بعد سورۃ رعد ہے اس کے حروف مقطعات الف۔لام۔میم۔را۔ہیں اور اس کی عددی قیمت 271 ہے۔اور اس کا زمانہ 946 ھ تک ممتد ہے۔گویا دسویں صدی قریب الاختتام ہے۔اس سورت میں مصائب و آلام کے کالے کالے بادل نظر آتے ہیں اور خوفناک بجلیاں کڑک رہی ہیں۔گو یا ملت نوراسلام سے محروم ہو کر ظلمت کی طرف بڑھ رہی ہے۔اس سورۃ کے بعد سورۃ ابراہیم ہے اس کے حروف مقطعات الف۔لام۔راہیں اور اس کا زمانہ 964 ھ سے لے کر 1195ھ تک ممتد ہے۔گویا بارھویں صدی قریب الاختتام ہے اور یہ وہ صدی ہے جس نے ملتِ اسلامیہ کو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں لے لیا اور پھر یہ اندھیرا بڑھتا ہی گیا۔یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ابراہیم کا نام دے کر اور کبھی موسیٰ کا نام دیکر یہ حکم دیا جارہا ہے۔أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ (ابراهیم آیت : 6) یعنی اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی کوشش کرو۔اس سورۃ کے عہد میں حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب محدث دہلوی نے ملت اسلامیہ کو ظلمت سے نکالنے کی سعی فرمائی۔اس سورۃ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے دکھلایا گیا ہے کہ الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑھاپے میں اسمعیل اور الحق عطا فرمائے۔اس موقع پر یہ یادر ہے کہ یہاں حضرت اسحق کی پیدائش کا ذکر آگیا ہے لیکن اُن کے متعلق لفظ غلام استعمال نہیں کیا گیا۔کیونکہ ابھی تیرھویں صدی سامنے نہیں آئی تھی۔