معجزات القرآن

by Other Authors

Page 68 of 126

معجزات القرآن — Page 68

”“ 133 “ 134 پیشگوئیاں لئے ہوئے ہیں وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ سورۃ کہف کا تعلق امام مہدی علیہ السلام کے زمانے سے ہے۔خلاصہ یہ کہ قرآن شریف ، نبی کریم کے عمل ، اور حدیث سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ قصص ماضیہ پیشگوئیاں ہیں لیکن طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہو کہ ان پیشگوئیوں کا کس کس زمانے سے تعلق ہے اور یہ کب پوری ہوئیں یا ہوں گی؟ پیشگوئی کے مفہوم کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی وقت پوری ہوتی نظر آئے لیکن اگر کسی پیشگوئی کا کسی وقت بھی پورا ہونا ظاہر نہ ہو تو پھر وہ پیشگوئی، پیشگوئی نہیں کہلا سکتی۔سواس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ فریضہ حروف مقطعات ادا کر رہے ہیں۔اگر قرآن شریف کی سورتوں کو حروف مقطعات کے معین کردہ زمانہ میں دیکھا جائے تو پھر صاف نظر آتا ہے کہ فلاں قصے کا فلاں زمانے سے تعلق ہے اور یہ کہ آئندہ کیا کچھ ہونے والا ہے۔اگر آپ سورۃ بقرہ کی تلاوت کر رہے ہیں تو اُس وقت آپ یہ تصور کریں کہ اس سورۃ کا تعلق آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر بنی اسرائیل کے زمانے تک ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ میں قصہ ابلیس و آدم کے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا لیکن اس کے برعکس سورۃ اعراف میں جس کا تعلق نبی کریم کے زمانے سے ہے قصہ ابلیس و آدم کے بعد بنی آدم کو مخاطب فرمایا۔سورۃ بقرہ مغضوب تھم پر براہ راست حجت ہے یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام شوخیوں کا ذکر کیا ہے جن کے باعث وہ مغضوب ٹھہرے۔اور اگر آپ سورۃ آل عمران کی تلاوت کریں تو اُس وقت یہ تصور کریں کہ اس سورۃ سے عیسائیوں سے بحث ومباحثہ شروع ہوتا ہے۔اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ بجائے يُبنى اسرائیل کے يَا أَهْلَ الكِتَابِ فرماتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اپنے نسب پر ناز تھا اور وہ کہتے تھے۔نَحْنُ أَبْنَاءُ اللهِ وَاحِباؤُهُ۔۔۔یعنی ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔لہذا بنی اسرائیل سے باہر کسی آنے والے نبی کو ہم تسلیم نہیں کر سکتے۔سورۃ آل عمران میں یا اھل الکتاب کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے کہ عیسائیوں میں غیر اسرائیل لوگ شامل ہو گئے تھے۔سورۃ آل عمران سے لے کر سورۃ مائدہ تک اسی قوم سے بحث ومباحثہ ہے اور مسلمانوں کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اس کی حیثیت ضمنی ہے۔اگر آپ سورہ انعام کی تلاوت کریں تو اس وقت یہ تصور کریں کہ اس کا تعلق قریش مکہ اور دیگر عرب قبائل سے ہے اس سورت میں اسی اُمی قوم کی بدرسوم کا قلع قمع کیا گیا ہے۔اگر آپ سورۃ اعراف کی تلاوت کریں تو اس وقت یہ تصور کریں کہ اس سورۃ کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی سے ہے یہی وجہ ہے کہ اس سورۃ میں یہ دعوی کیا گیا ہے: قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف : 159) ترجمہ: تو کہہ دے کہ اے انسانو! یقیناً میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔اگر آپ سورۃ انفال کی تلاوت کریں تو پھر یہ تصور کریں کہ اس کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کے ابتدائی زمانے سے ہے اور سورۃ توبہ کا تعلق مدنی زندگی کے آخری دور سے ہے۔یہ تینوں سورتیں یعنی اعراف، انفال اور تو بہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے 23 سالہ نبوی زندگی کی آئینہ دار ہیں۔سورۃ توبہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔