معجزات القرآن

by Other Authors

Page 70 of 126

معجزات القرآن — Page 70

”“ 137 سورۃ ابراہیم کے بعد سورۃ حجر ہے۔اس کے حروف مقطعات بھی الف لام۔را۔ہیں۔اس کا زمانہ 1195ھ سے 1426ھ تک ہے۔گویا حضرت امام علیہ السلام کے سن وصال کے بعد جو 1326 ھ ہے پوری ایک صدی زائد رکھی گئی ہے اور یہ وہ صدی ہے جو یوم الدین کی مصداق ہے۔اسی صدی کے اندر تمام اقوام کی قسمت کا فیصلہ ہونا مقدر ہے۔1426ھ کے بعد پندرھویں صدی کا 27 واں سال اسلام کی صبح ظہور کا نقطہ آغاز ہے۔یہ صبح ظہور وہی ہے جس کو سورۃ الصف میں جو اسمہ احمد کی مردہ بردار ہے: فَأَيَّدُنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاهِرِينَ (الصف: 15) ترجمہ: پس ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب آگئے۔کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔اسی سورۃ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابراہیم کے نام کے پردے میں غلام علیم کی بشارت دی گئی ہے۔جس میں یہ اشارہ ہے کہ اسلام کی نشاة ثانیہ کا بانی امیوں میں سے نہیں ہوگا۔اب قریش کی خلافت کا دور ختم ہوا۔اب احیائے اسلام کا کام اللہ تعالیٰ ایک ایسے انسان سے لے گا جو صاحب علم ہوگا ، سلطان القلم ہوگا۔يُكَلِّمُ النَّاس کا مصداق ہوگا اور اُس کا کلام دابتہ الارض کے کلام کو کھا جائے گا۔اس موقع پر یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ یہ چھ سورتیں جو سورۃ یونس سے سورۃ حجر تک ہیں ان کا جزو مشترک لفظ کتاب ہے اور ان کا مقصد اسلام کی نشاۃ اولیٰ کا صعود اور ہبوط دکھانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب تک آفتاب اسلام اوج پر رہا اُس وقت تک سورۃ یونس، ہود اور یوسف میں لفظ عرش استعمال ہوتا رہا۔لیکن جونہی آفتاب اسلام “ 138 ڈھلنے لگا یہ لفظ بھی غائب ہو گیا اور اس کی جگہ ظلمت، برق اور صاعقہ نے لے لی اور سورۃ رعد میں پہلی بار خلق جدید کے الفاظ استعمال کئے گئے یعنی جہانِ نو کا نقطہ آغاز دکھایا گیا۔خدا تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ جس طرح ان جملہ سورتوں کے مجموعی اعداد 1426 ہیں اسی طرح ان سورتوں کے شروع میں یعنی سورۃ یونس میں جو پہلی آیت رکھی گئی ہے اس کے اعداد بھی پورے 1426 ہیں اور وہ آیت یہ ہے تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ - لفظ تِلْكَ کے اعداد 450۔لفظ آیات کے اعداد 413۔الکتاب کے اعداد 454 اور الْحَکیم کے اعداد 109 ہیں۔کل میزان 1426 سورۃ حجر کے بعد سورۃ طہ تک جتنی بھی سورتیں ہیں وہ سب اسی سورۃ کے تحت ہیں۔اس سورۃ میں چونکہ اسلام نشاۃ اولیٰ سے نشاۃ ثانیہ میں تبدیل ہوتا دکھایا گیا ہے اس لئے بعد کی سورتیں اس اجمالی کیفیت کو مفصل طور پر پیش کرتی ہیں اور اسلوب بیان یہ ہے کہ ایک طرف تو انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے کوائف سے ربط ہے اور دوسری طرف ملت کی ہجرت کے کوائف سے۔سورۃ نحل میں فرمایا:۔آئی آمر الله - ( محل : 2) یہ وہی کیفیت ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو پہر کے وقت حضرت ابوبکر صدیق کے گھر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ ہجرت کرنے کا حکم آگیا ہے اور ملت کی نسبت سے اس کا یہ مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ اب اپنے ایسے نشانات دکھانے کو ہے جو فتح اسلام پر منتج ہوں گے۔سورۃ نحل کے بعد سورۃ بنی اسرائیل ہے۔اس سورۃ میں فرما یا :۔سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً۔۔۔۔۔الخ “ ( بنی اسرائیل : 2) ان الفاظ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی زندگی سے وہی نسبت ہے جبکہ حضور رات کی تاریکی میں گھر سے نکلے اور حضرت ابوبکر صدیق" کو ساتھ لے کر مکہ کو