مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 321
321 بعض دفعہ خود کراتا ہے۔تا کہ اول نبی کا اصطفاء کرے یعنی اس کا درجہ اور بلند کرے۔اس کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب ہے جب ان کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ وہ بیٹے کو قتل کر دیں۔کیونکہ اگر یہ مطلب ہوتا تو جب وہ قتل کرنے لگے تھے تو انہیں منع نہ کیا جاتا۔لیکن حضرت ابراہیم کو خواب ایسے رنگ میں دکھائی گئی کہ ابراہیم کا ایمان لوگوں پر ظاہر ہو جائے اور جب وہ اس کے ظاہری معنوں کی طرف مائل ہوئے تو ان کی حقیقت ان پر کھولی گئی۔حتی کہ وہ عملاً بیٹے کو قتل کرنے لگے تھے۔تب بتادیا کہ ہمارا یہ مطلب نہ تھا اور یہ خدا تعالیٰ نے اسی لئے کیا تا دنیا کو بتا دے کہ خدا کیلئے ابراہیم اپنا اکلوتا اور بڑھاپے کا بیٹا بھی قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔دوسری قسم کی اجتہادی غلطیاں ابتلائی ہوتی ہیں۔یعنی بعض لوگوں کا امتحان لینے کیلئے۔جیسے صلح حدیبیہ کے وقت ہوا کہ آپ کو خواب میں طواف کا نظارہ دکھایا گیا۔مگر اس سے مراد یہ تھی کہ آئندہ سال طواف ہوگا۔آپ نے سمجھا کہ ابھی عمرہ کر آئیں۔اور ایک جماعت کثیر کو لے کر چل پڑے۔مگر اللہ تعالیٰ نے حقیقت کا پھر بھی اظہار نہ کیا۔جب روک پیدا ہوئی تو کئی صحابہ کو حیرت ہوئی اور کمزور طبائع کے لوگ تو تمسخر کرنے لگے اور اس طرح مومن اور منافق کے ایمان کی آزمائش ہو گئی۔یا درکھنا چاہیے کہ الہام کے سمجھنے میں تب ہی اجتہادی غلطی لگ سکتی ہے جب الہام کے الفاظ تعبیر طلب ہوں یا جو نظارہ دکھایا جائے وہ تعبیر رکھتا ہو۔اگر الہام دماغی اختراع ہوتا تو پھر دماغ سے ایسے الفاظ نکلتے جو واضح ہوتے نہ کہ تعبیر طلب نظارے یا الفاظ۔تعبیر طلب نظارے تو ارادے کے ساتھ نہیں بنائے جاسکتے۔مثلاً دماغ کو اس سے کیا نسبت ہے کہ وہ قحط کو دہلی گائیوں کی شکل میں دکھائے۔پس اجتہادی غلطی کا سرزد ہونا الہام کے دماغی اختراع ہونے کے منافی ہے اور اس کی تشریح کی وجہ سے یورپ کی ان نئی تحقیقاتوں پر جو الہام کے متعلق ہورہی ہیں، پانی پھر جاتا ہے۔کیونکہ اجتہادی غلطی کی موجودگی میں جو بار یک تعبیر کا دروازہ کھلا رکھتی ہے الہام کو انسانی دماغ کا اختراع کسی صورت میں قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر دینی قابلیت کا نتیجہ ہو تو صاف الفاظ میں ہوگا، تعبیر طلب نہ ہوگا۔(3) تیسری غلطی لوگوں کو شفاعت انبیاء کے متعلق لگی ہوئی تھی اور اس کی دو شقیں تھیں۔(الف) یہ کہ بعض لوگ خیال کرتے تھے کہ جو مرضی آئے کرو، شفاعت کے ذریعہ سب کچھ بخشا جائے گا۔چنانچہ ایک شاعر کا قول ہے