مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 322 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 322

322 مستحق شفاعت گناہگاراں اند یعنی شفاعت کے مستحق گناہگارہی ہیں۔(ب) بعض لوگ اس کے الٹ خیال کرتے تھے کہ شفاعت شرک ہے اور صفات باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دونوں غلطیوں کو دور کیا۔آپ نے مسئلہ شفاعت کی یہ تشریح کی کہ شفاعت خاص حالتوں میں ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوتی ہے۔پس شفاعت پر تو کل کرنا درست نہیں۔شفاعت اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ باوجود پوری کوشش کرنے کے پھر بھی انسان میں کچھ خامی رہ گئی ہو اور جب تک کوئی رسول کا جوڑا نہ بن جائے شفاعت سے بخشا نہیں جاسکتا۔پھر وہ جو کہتے ہیں شفاعت شرک ہے انہیں حضرت مسیح موود علیہ السلام نے کہا کہ اگر شفاعت صلى الله حکومت کے ذریعہ کرائی جاتی یعنی رسول کریم ہے خدا تعالیٰ سے حکما کہتے کہ فلاں کو بخش دے تو یہ شرک ہوتا۔مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ شفاعت ہمارے اذن سے ہوتی یعنی ہم حکم دے کر رسول سے یہ کام کروائیں گے۔جب ہم کہیں گے کہ شفاعت کرو تب نبی شفاعت کرے گا اور یہ امر شرک ہرگز نہیں ہوسکتا۔اس میں نہ خدا تعالیٰ کی ہمسری ہے اور نہ اس کی کسی صفت پر پردہ پڑتا ہے۔آپ نے ثابت کیا کہ نہ صرف شفاعت جائز ہے بلکہ دنیا کی روحانی ترقی کیلئے ضروری ہے اور اس کے بغیر دنیا کی نجات ناممکن ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ ورثہ سے کمالات ملتے ہیں۔اگر کوئی کہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کا باپ نماز نہیں پڑھتا مگر بیٹا پکا نمازی ہوتا ہے۔پھر اس بیٹے کو یہ بات ورثہ میں کس طرح ملی؟ اس کے متعلق یہ یاد رکھنا چاہیے کہ باپ میں نماز پڑھنے کی قابلیت تھی تبھی بیٹے میں آئی ورنہ کبھی نہ آتی۔بھینس میں یہ قابلیت نہیں ہوتی۔اس لیے کسی بھینس کا بچہ ایسا نہیں ہوتا جو نماز پڑھ سکے۔پس حق یہی ہے کہ کمالات ورثہ میں ملتے ہیں اور جب جسمانی کمالات ورثہ میں ملتے ہیں تو روحانی کمالات بھی ان اشخاص کو جو آدم کے مقام پر نہیں ہوتے بغیر ورثہ کے نہیں مل سکتے۔پس انسانوں کیلئے جو اپنی ذات میں کمال حاصل نہیں کر سکتے، نبی بھیجے جاتے ہیں۔یعنی خدا تعالیٰ ایسے انسان پیدا کرتا ہے جن پر آسمان سے روحانیت کے فیوض ڈالے جاتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ آدم قرار دیتا ہے۔پھر ان کی روحانی اولاد بن کر دوسروں کو روحانی فیوض ملتے ہیں اور اس طرح وہ نجات حاصل