مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 320 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 320

320 کر گیا کہ سید ولد آدم ﷺ کی ذات بھی محفوظ نہ رہی تھی۔(الف) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ یہ خیالات بالکل غلط ہیں اور جو باتیں بیان کی جاتی ہیں بالکل جھوٹ ہیں۔آپ نے ان باتوں کا غلط ہونا دوطرح سے ثابت کیا۔ایک اس طرح که فر مایا یہ قانونِ قدرت ہے کہ معرفت کامل گناہ سوز ہوتی ہے۔مثلاً جسے یقین کامل ہو کہ فلاں چیز زہر ہے، وہ کبھی اسے نہیں کھائے گا۔پس جب یہ مانتے ہو کہ نبی کومعرفت کامل حاصل ہوتی ہے تو پھر یہ کہنا کہ نبی گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہے، یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔پس یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ نبی سے کوئی گناہ سرزد ہو۔(ب) یہ کہ نبی کے بھیجنے کی ضرورت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کیلئے نمونہ ہو، ورنہ نبی کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔کیا خدا تعالیٰ لکھی لکھائی کتاب نہیں بھیج سکتا تھا۔پس نبی آتا ہی اس لیے ہے کہ خدا کے کلام پر عمل کر کے لوگوں کو دکھائے اور ان کیلئے کامل نمونہ بنے۔پس اگر نبی بھی گناہ کر سکتا ہے تو پھر وہ نمونہ کیا ہوگا۔نبی کی تو غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ جو لفظوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہو وہ اپنے عمل سے لوگوں کو سکھائے۔(2) دوسری غلطی جس میں لوگ مبتلا تھے یہ تھی کہ وہ خیال کرتے تھے کہ نبی سے اجتہادی غلطی نہیں ہوسکتی۔عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو لوگ کہتے ہیں کہ نبی گناہگار ہوسکتا ہے اور دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ نبی سے اجتہادی غلطی نہیں ہوسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ کو علمی بنا دیا اور بتایا کہ:- (الف) نبی سے اجتہادی غلطی نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری ہے تا کہ معلوم ہو کہ نبی پر جو کلام نازل ہوا وہ اس کا نہیں بلکہ اور ہستی نے نازل کیا ہے۔کیونکہ اپنی ذات کے سمجھنے میں کسی کو غلطی نہیں لگتی۔کوئی یہ نہیں کہتا کہ فلاں بات جب میں نے کہی تھی تو اس کا میں نے اور مطلب سمجھا تھا اور اب اور سمجھتا ہوں۔اس غلطی کا لگنا ثبوت ہوتا ہے اس امر کا کہ وہ بات اس کی بنائی ہوئی نہیں۔پس آپ نے فرمایا کہ نبی سے اجتہادی غلطی سرزد ہوناضروری ہے تا کہ اس کی سچائی کا ایک ثبوت بنے۔(ب) دوسرے نہ صرف نبی کو اجتہادی غلطی لگتی ہے بلکہ خدا تعالیٰ نبی سے اجتہادی غلطی