مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 253 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 253

253 سلطان،سب شاہزادے اور سب وزراء آپ کی عزت کرتے تھے۔یہ حالات آپ کی قبر کے کتبہ سے معلوم ہوتے ہیں جہاں لکھا ہے:- یہ مرحوم و مغفور کی قبر ہے۔جن پر خدا کی رحمت ہو۔تمام شاہزادے،سارے سلطان اور سارے وزراء فقیر ملک ابراہیم کی مدد کرتے تھے۔جو کہ بزرگ دادا کے نام سے مشہور تھے۔اللہ تعالیٰ اس پر بہت رحمت نازل کرے۔اور اپنی خوشنودی عطا کرے اور جنت میں داخل کرے۔بروز سوموار 822 ہجری 12 ربیع الاول میں وفات پاگئے“۔آپ نے ایک بڑا ند ہی مدرسہ قائم کیا۔ہندؤں کے مقابل پر جنہوں نے اپنے مذہب کے علماء بنانے کیلئے مذہبی سکول قائم کئے تھے۔حکومت ما جاپاہت کے ساتھ آپ کے تعلقات بہت اچھے تھے۔اسی وجہ سے آپ کو گر سیک کا علاقہ دیا گیا جہاں پر آپ رہنمائی اور کنٹرول کرتے تھے۔سنتن آمیل: جن کا اصلی نام سید علی رحمت اللہ تھا۔اور شیخ ابراہیم سمرقندی جو کہ بخارا سے تھے کے بیٹے تھے۔جنہوں نے دیوی چندر اوالن سے نکاح کیا۔جو کہ ما جاپاہت کے راجہ Cempa کی لڑکی تھی۔اس کی والدہ دیوی چندر والن کی ایک چھوٹی بہن تھی جس کا نام دیوی دادر تی تھا۔جس کی شادی پرابو براوی جابا سے ہوئی جو کہ جاوا کا راجہ ما جاپاہت تھا۔اس لئے آپ جاوا کے راجہ کے بھتیجے تھے۔جب آپ کو جاوا بھجوایا گیا تو ما جاپاہت کی لڑکی سے آپ کی شادی ہوئی۔جس کا نام چندر اواتی تھا۔چونکہ آپ راجہ کے داماد تھے اس لئے آپ کو راڈین کا خطاب دیا گیا۔عزت کا خطاب جو کہ جاوا کے شہزادوں کو دیا جاتا تھا۔پھر آپ کو راڈین رحمت سے پکارا جانے لگا۔آپ کو سورابایا مشرقی جاوا میں آمپل ڈنڈا کا علاقہ دیا گیا۔جہاں آپ نے تبلیغ کو پھیلایا۔آپ ایک اچھے منتظم تھے اور اپنے علاقہ میں اسلام کی اعلیٰ تعلیم کو پھیلایا جو کہ نبی کریم سے لے کر آئے تھے۔لوکل عادات میں دخل دیئے بغیر آپ کام کرتے تھے۔چونکہ آپ علاقہ آمپل ڈنٹا میں رہتے تھے اور وہاں تبلیغ کرتے تھے اس لیے آپ کو سنتن آمپل کے نام سے پکارا جاتا ہے۔سنتن کا لفظ دراصل سوسوھن سے ہے جس کے معنے ہیں جس کی بہت عزت کی جائے یا کہ جو لوکل مشارکت کا لیڈر ہو اور رہنما ہو۔بعض یہ کہتے ہیں کہ سنتن کا لفظ اصل ساھون ہے جس کے معنے ہیں بڑا اُستاد یا جس کا علم بڑا ہو۔