مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 252
252 مندرجہ بالا اولیاء مختلف اوقات میں تھے لیکن ہر وقت ہی ان کی تعداد نو (9) تھی۔جب ان میں سے کوئی وفات پا جاتا یا اپنے ملک کو واپس چلا جاتا تو ان کی جگہ پر کسی اور کا انتخاب ہوتا تا کہ نو (9) تعداد پوری رہے۔مذکورہ ولی سونگو میں سے جو پبلک میں مشہور تھے ان کے نام درج ذیل ہیں۔(۱) مولانا ملک ابراہیم : (۲) رادین احمد علی رحمت اللہ : جو کہ سنن آمیل کے نام سے مشہور تھے۔(۳) شریف ہدایت : جو کہ سنن گنگ جاتی کے نام سے مشہور تھے۔(۴) راڈین پاکو : جو کہ سنن گیری کے نام سے مشہور تھے۔(۵) راڈین سعید : جو کہ سنن کالی جاگہ کے نام سے مشہور تھے۔(۶) راڈین مکدوم ابراہیم : جو کہ سنن بانگ کے نام سے مشہور تھے۔(۷) راڈین جعفر صادق : جو کہ سنن کدس کے نام سے مشہور تھے۔(۸) راڈین قاسم: جو کہ سنن دراجات کے نام سے مشہور تھے۔(۹) رادین عمر سعید: جو کہ سنن موریہ کے نام سے مشہور تھے۔(ب) تمام ولی سونگو جو کہ مشارکت میں مشہور تھے کی حکایت (1) مولانا ملک ابراہیم : سلطان محمد اول ترکی کی طرف سے پہلا عالم جو انڈونیشیا بھجوایا گیا یعنی 1404 مسیحی میں جو کہ حکومتی نظام کا ماہر اور زراعت اور طباعت کے علم میں ماہر تھے۔انہوں نے 1419 مسیحی میں گر سیک مشرقی جاوا میں وفات پائی۔اس وقت جو حکومت اقتدار میں تھی یعنی مشرقی جاوا میں وہ ما جاپاہت کی حکومت تھی۔جس کی رعیت زیادہ تر بدھ اور ہندو تھے۔چونکہ پہلے آپ کو گجرات انڈیا میں کام کرنے کا موقع مل چکا تھا جہاں کے رہنے والے ہندو تھے۔اس لیے آپ کو دوبارہ ہندوؤں میں کام کرنے کی کوئی مشکل پیش نہ آئی۔لوکل مشارکت آپ کو بزرگ دادا کے نام سے یاد کرتی۔کیونکہ آپ ہر فقیر مسکین کی عزت کرتے تھے۔آپ کی ذاتی وجاہت کی وجہ سے بھی لوگ آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔یعنی سب