مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 224 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 224

224 کر دے۔نہ قبر ر ہے گی اور نہ اس پر شرک و بدعت ہوگا“۔سے شرک و بدعت اور رسومات سے بچاؤ کیلئے ارشاد فرمایا : - بھائیو! حاصل بیعت یہ ہے کہ تم لوگ جو شرک و بدعت کرتے ہو، تعزیے بناتے ہو، نشان کھڑا کرتے ہو، پیروں کی قبروں کو پوجتے ہو، ان کی نذر نیاز مانتے ہو، ان سب کاموں کو چھوڑ دو اور سوائے خدا کے کسی کو اپنے نفع و ضرر کا مالک نہ جانو اور اپنا حاجت روا نہ پہچانو۔اگر یہ نہ کرو گے تو فقط بیعت کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا“۔۲۴ دعوت ارشاد بنارس میں قیام کے دوران آپ نے اپنی بگڑی ہوئی قوم کو راہ راست پر لانے کیلئے فرمایا :- خوب ذکر کرو۔یہ شہر کفر و شرک کے ظلمات سے لبریز ہے۔اسے ذکر الہی کے انوار سے منور کر دو۔جب آپ لکھنو تشریف لے گئے تو اکثر جمعہ سے عصر تک آپ کے ارشاد پر مولانا عبدالحئی سورہ انبیاء کی تفسیر کیا کرتے تھے۔اپنے قیام کے دوران آپ نے تعزیہ داری ، عرس، راگ رنگ، گور پرستی، پیر پرستی ، داڑھیاں منڈانا، پٹے رکھنا ( فیشن ایبل بال مراد ہیں ) مسی لگانا، کبوتر اڑانا، مرغ لڑانا، سیٹی بجانا، پتنگ اُڑانا اور اس قسم کی تمام رسومات سے سختی سے روکا۔۲۵ بنارس میں آپ نے ایک ماہ قیام کیا۔یہاں دس پندرہ ہزار مردوزن نے بیعت کی اور بنارس جو گمراہی کا گڑھ تھا مولانا کی برکت سے مسلمانوں میں بدعملیاں ختم ہوئیں۔یہاں کے رؤساء نے بھی سید صاحب کی بیعت کی۔۳ تنبت میں تبلیغ عظیم آباد میں سید صاحب کو تبتیوں کا ایک قافلہ ملا۔آپ نے انہیں اپنے حلقہ ارادت میں شامل کرنے کے بعد تبت میں تبلیغ کا کام سونپا۔تو حید وسنت کے اثبات اور شرک کے رد میں چند آیات و احادیث لکھ کر دیں اور فرمایا صبر و استقامت کے ساتھ دین حق عام لوگوں تک پہنچاتے رہنا اور اس راہ کی تکالیف کو برداشت کرنا ان کے اہتمام سے تبت میں مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت پیدا