مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 223
223 ان اقدام کا خاطر خواہ اثر ہوا اور کئی شریف بیبیاں بیاہی گئیں۔چنانچہ شاہ اسمعیل صاحب نے اپنی پچاس سالہ بیوہ بہن کا نکاح مولانا عبدالحئی سے کیا۔آپ نے تمام مسلمانوں کو اس رسم کی قباحتوں سے یوں آگاہ کیا :- ”انہیں چیزوں میں سے بیواؤں سے دوسرا نکاح نہ کرنا ہے۔خصوصاً وہ بیوہ جو جوان ہو اس کا نکاح ثانی کرنے کو ایسا برا سمجھنا جیسا خدا کے یہاں کفر و شرک ہے اور جو بیوہ اپنا نکاح کرلے اسے بازاری عورت اور بے حیا سمجھنا اور مجتبہ قرار دینا اس کو مطعون و بدنام کرنا اور ساری عمر اس کو زندہ در گور کر دینا اس قبیل سے ہے۔یہ نہیں سمجھتے کہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ان کو معلوم نہیں کہ تمام امہات المومنین سوائے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیوہ تھیں۔۲ آپ کی تبلیغ سے پہلے کیا حالت تھی اور بعد میں کیا انقلاب ہوا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل حوالہ سے ہو جاتا ہے۔اس سے قبل حالت یہ تھی کہ یہ سن کر کہ آپ بیوہ کے نکاح کے قائل ہیں۔ایک شخص قتل کے ارادہ سے آپ کے پاس آیا مگر آپ کی گفتار و واعظ کے تیر سے ایسا گھائل ہوا کہ آپ کا ارادتمند بن گیا۔اے نصیر آباد میں شیعہ سنی چپقلش تھی۔شیعہ حضرات علی الاعلان تبرا کرتے تھے۔سید صاحب سینیوں کی دعوت پر وہاں گئے اور دونوں گروہوں میں مصالحت کرادی۔سلون میں ایک سجادہ نشین تھا جس کا نام شاہ کریم عطا تھا۔وہاں خلاف شرع حرکات ہوتی تھیں۔ناچ گانا اور رقص وسرود ہوتا تھا۔مولانا نے انہیں سمجھایا کہ ان باتوں کی دلیل سنت نبوی میں کہاں ہے؟ وہ لوگ آپ کے پُر اثر وعظ کے بعد سمجھ گئے اور ایسی باتوں کو ختم کر دیا۔ہے قبر پرستی کے خلاف ایک بری رسم قبر پرستی تھی۔آپ اسے برا خیال کرتے اور اس سے منع کیا کرتے تھے۔کسی نے کہا کہ آپ کے بعد آپ کے مرید بھی یہی کام کریں گے۔تو آپ نے فرمایا ”میں درگاہ الہی میں بصد آه و زاری درخواست کروں گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ میری قبر معدوم اور میرے مدفن کو نامعلوم