مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 225
225 ہو گئی۔ہزاروں آدمی حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے چند آدمی تبلیغ کیلئے چین بھیجے۔اسی طرح جاوا ، بلغاریہ، مراکش وغیرہ میں بھی آپ کے خلفاء پہنچے۔ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں تبلیغ آپ نے اسلام کے عقائد صحیحہ کی تبلیغ اور توحید وسنت کی عالمگیر اشاعت فرمائی۔ہندوستان کا کوئی گوشہ نہیں چھوڑا۔دہلی اور کلکتے کے درمیان سینکڑوں مقامات پر آپ نے خود دورہ فرمایا۔مولانا عبدالحئی صاحب اور شاہ اسماعیل صاحب آپ کے مواعظ ہوئے۔سندھ اور سرحد میں خود قیام فرمایا۔حیدر آباد دکن، بمبئے ، مدراس میں مولانا سید محمد علی رامپوری و مولانا ولایت علی صاحب عظیم آبادی کو بھیجا۔جنہوں نے وہاں قیام فرما کر اصلاح عقائد و اعمال و رسوم کا عظیم الشان کام سرانجام دیا۔ہزاروں بندگان خدا اور سینکڑوں امراء ورؤسا و اہل علم وفضل مستفید ہوئے اور توحید وسنت کا عام چرچا ہو گیا۔یورپ میں آپ کے خلفاء مولانا کرامت علی صاحب و مولا ناسخاوت علی صاحب جونپوری نے تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دیئے اور بڑی کامیابی حاصل کی۔نیپال کی ترائی میں مولانا جعفر علی صاحب نے روشنی پھیلائی۔افغانستان میں بھی آپ کے خلیفہ مولوی حبیب اللہ قندھاری سے اصلاح ہوئی۔ان حضرات نے جہاد اور شہادت کے بارے میں اس رنگ میں وعظ کیسے کہ لوگ از خود جان و مال راہِ خدا میں قربان کرنے کیلئے تیار ہو گئے اور خدمت دین کو عین سعادت خیال کرنے لگے۔۔کلکتہ میں تبلیغ وو یہاں انگریزی طرز معاشرہ تھی۔شراب اور بے پردگی عام تھی اور دوسری بدرسومات بھی تھیں۔آپ کی آمد سے شراب کی دکانیں بے رونق ہو گئیں عورتیں باپردہ ہو گئیں سینکڑوں بیوگان کے نکاح ہوئے اور سینکڑوں غیر مختونوں کے ختنے کرائے گئے۔سید محمد علی نے اس بارہ میں لکھا ” ہر خطے اور ہر کشور سے ہزاروں بلکہ بیشمار مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اہل شرک و بدعت اور سرکش اور گناہگار اپنے برے اعمال سے تائب ہو کر مخلص مومنوں کے زمرے میں شامل ہو گئے۔پرنسپ کی کتاب رنجیب سنگھ کے صفحہ 146 میں یہ لکھا ہے :-