مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 68
68 (۳) اس کے بعد صحابی کی رائے کو اختیار کیا جائے گا اگر وہ دوسرے صحابی کی رائے کے خلاف نہ ہو۔(۴) اگر اختلاف ہو تو اس کی رائے مانی جائے گی جو کتاب اللہ کے زیادہ قریب ہو۔(۵) قیاس۔اگر کوئی مسئلہ کتاب، سنت اور اجماع سے نہ ملے ، نہ اس کے بارہ میں کسی صحابی کا قول ملے تو مندرجہ بالا ماخذ کی روشنی میں قیاس کیا جائے۔ہے امام شافعی اور علم کلام اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ امام صاحب علم الکلام سے نالاں اور اس کے خلاف تھے۔لیکن درحقیقت اس وقت علم کلام یہ تھا کہ کہ قرآن و نصوص کے خلاف صرف اپنی عقل سے مسائل بنا لیے جائیں۔امام صاحب اس من گھڑت علم کلام کے خلاف تھے۔اس کا اظہار وہ اپنے اشعار میں یوں کرتے ہیں۔لم يبرح الله حتى احد ثوا بدعا في الدين بالرأى لم يبعث به الرسل حتى استخف بـديـن الـلـه اكثرهم في الذين حكموا من حقه شغل ترجمہ: خدا اس وقت تک بندوں کے ساتھ رہا حتی کہ انہوں نے اپنی انکلوں سے دین میں ایسی بدعات ایجاد کیں جن کی تعلیم رسول نہیں لائے تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے دین کو اکثر لوگ خفیف سمجھنے لگے اور ان باتوں میں مشغول ہو گئے جن کو انہوں نے اپنی رائے سے خدا کے حق میں تجویز کیا۔اس بیان سے ظاہر ہے کہ امام شافعی نے جس علم کلام کی مذمت کی ہے وہ وہی علم کلام ہے جس سے اہل بدعت اپنے عقائد باطلہ کی ترویج کرتے تھے۔ورنہ جو دلائل وحدانیت اور نبوت اور قدر وغیرہ امور کے ثبوت میں امام شافعی سے منقول ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ان سے بہتر آج تک کسی متکلم نے بیان نہیں کیے۔۳۳ جو کلام قرآن وسنت میں رہتے ہوئے تھا آپ اس کے جید عالم تھے۔چنانچہ ہارون الرشید نے ایک مرتبہ خدا کی دلیل پوچھی تو آپ نے متعدد دلائل بیان کیے جن میں سے ایک آوازوں کا اختلاف بھی تھا۔اسی طرح آپ نے نبوت محمدی ﷺ کی صداقت کے بھی کئی دلائل بیان کیے ہیں۔آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے براہمہ منکرین نبوت کے رد میں کتاب لکھی ہے اور اس میں صداقت نبوت کے