مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 67
67 نے دلائل سے ثابت کیا کہ قرآن غیر مخلوق ہے اور آپ نے دلیل دی کہ خدا فرماتا ہے و کلم الله موسی تکلیمًا۔خدا نے کلام کیا خلق نہیں کیا۔۔دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ روز محشر رویت باری نصیب ہوگی یا نہیں۔اس بارہ میں آپ کا مسلک مثبت تھا اور دلیل یہ دیتے تھے کہ قرآن میں ہے کلا انهم عن ربهم يومئذ لمحجوبون پس جب ناراضگی میں حجاب ہے تو خوشنودی میں دیدار ہوگا۔۔قضاء وقدر کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے اعمال کے خالق نہیں ہیں۔بلکہ خدا ہی ہے جس نے ان کے اعمال کی تخلیق کی ہے۔۴۔ایک مسئلہ یہ تھا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے۔اس میں کمی بیشی ممکن ہے یا نہیں۔آپ فرماتے ہیں ایمان تصدیق و عمل کا نام ہے اور کم اور زیادہ ہوتا ہے۔جب تحویل قبلہ ہوئی تو صحابہ نے قبلہ اول کی جانب پڑھی گئی نمازوں کی بابت پوچھا تو آیت نازل ہوئی ما کان الله ليضيع ایمانکم - یہاں خدا نے صلوٰۃ کو ایمان قرار دیا ہے اور صلوٰۃ میں تو کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔۵۔آپ خلفائے ثلاثہ کی فضیلت کے قائل تھے۔اسی طرح آپ کی تحریرات سے حب آل رسول اور حب علی کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔آپ کا یہ شعر ملاحظہ ہو۔ان كان رفضًا حب آل محمد فليشهد الثقلان اني رافض اگر آل محمد سے محبت کرنا رفض ہے تو فرشتوں کو چاہیے کہ گواہی دیں کہ میں رافضی ہوں۔اسی طرح حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا ” علی کرم اللہ وجہ علم قرآن اور علم فقہ میں مخصوص امتیاز کے حامل تھے آنحضرت ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ لوگوں کے فیصلے پکا یا کریں۔اسے امام شافعی نے علم کے پانچ مراتب یوں بیان فرمائے ہیں۔(1) کتاب و سنت (سنت ایسی جو ثابت شدہ ہو )۔امام صاحب کے نزدیک ان دونوں کا مرتبہ عملاً ایک ہی ہے کیونکہ سنت کتاب ہی کی وضاحت کرتی ہے اور سنت قرآن کی معارض نہیں ہوسکتی۔تاہم خبر احادقرآن کے برابر نہیں۔(۲) جہاں کتاب وسنت میں واضح حکم نہ ملے تو وہ مسئلہ اجماع کبار فقہاء سے طے کیا جائے گا۔