مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 69
69 دلائل قائم کیے۔آپ نے صداقت حضرت محمد ﷺ کے دلائل دیتے ہوئے لکھا کہ مندرجہ ذیل چیزیں صداقت پر دال ہیں۔القرآن المنزل و اجماع الناس والايات التى لا تليق باحد غيره - ۳۵ که قرآن کریم ، لوگوں کا اجماع اور آپ کی امتیازی نشانیاں جو دوسروں میں نہیں۔آپ مناظرہ و بحث مباحثہ میں تکفیر بازی کے خلاف تھے جو اس وقت متکلمین کا مرغوب مشغلہ تھا۔چنانچہ آپ نے فرمایا ” جس چیز میں بھی مناظرہ کر واس میں دوسرے کے بارے میں یہ تو کہہ سکتے ہو کہ تم نے غلطی کی نہ یہ کہ تم نے کفر کیا۔= آپ قضاء قدر کے بارے میں اس بات کے قائل تھے کہ انسان خدا کی مرضی کا پابند ہے اور اس لیے بہت سے دلائل دیتے۔جیسے کہتے کہ کافر ہمیشہ ایمان کا ارادہ کرتا ہے اگر اعمال میں اختیار ہوتا تو وہ کافر کیوں رہتا۔اس طرح اپنے دعویٰ کے ثبوت کے طور پر حضرت علی کا یہ قول پیش کرتے ”عرفت ربى بنقص العزائم و فسخ الهم کہ میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے اور ہمتوں کے ناکارہ ہونے سے پہچانا۔امام رازی کہتے ہیں کہ قضاء و قدر کے جتنے دلائل امام شافعی نے جمع کیے ہیں بڑے بڑے متکلمین نے بھی اپنی تصانیف میں نہیں لکھے۔قیاس ،استحسان اور امام شافعی سب سے اوّل صحت قیاس کے مسئلہ کو بھی امام شافعی ہی نے ظاہر کیا اور اس علم میں کتا بیں لکھیں اور لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔آپ نے قیاس کی تین اقسام بیان کی ہیں۔(۱) قیاس اہمعنی۔قیاس الشبہ وغیرہ۔امام رازی رقمطراز ہیں:۔نہ ابو حنیفہ اور نہ ان کے اصحاب نے ایک ورق بھی اثبات قیاس میں لکھنے کی زحمت گوارا کی۔سب سے پہلے اس مسئلہ پر جس نے لب کشائی کی اور دلائل کا انبار جمع کر دیا وہ امام شافعی تھے۔۳۸ امام صاحب کے نزدیک استحسان باطل ہے اور اس سے مراد ایسا فتویٰ ہے جو کتاب، سنت، اجماع، قیاس پر مبنی نہ ہو۔استحسان کے ابطال کیلئے آپ نے ایک رسالہ ابطال استحسان“ بھی رقم فرمایا