مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 46 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 46

46 کہ اولاد کو خدا کے سپر د کرتا ہوں۔آپ نے ایک خطاب فرمایا اور جاگیرداروں کی اسناد کا خریطہ طلب کیا۔ایک شخص ان کو پڑھتا جاتا اور آپ انہیں قینچی سے کاٹ کاٹ کر پھینکتے جاتے۔فجر سے لے کر ظہر تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اپنے پورے خاندان کی ایک ایک جاگیر واپس کر دی۔حتی کہ اپنے پاس ایک نگینہ تک نہ رہنے دیا۔۲۳ محاصل کی اصلاح کئی ظالم محصل طرح طرح کے ٹیکس عائد کر کے غریب عوام کو تنگ کرتے تھے۔آپ نے اس کام میں نرمی کا حکم دیا۔خراج لینے کے متعلق آپ نے عبدالحمید بن عبد الرحمن کولکھا ”زمین کا معائنہ کرو۔بنجر زمین کا بار آبادزمین پر اور آباد زمین کا بار بنجر زمین پر نہ ڈالو۔بنجر زمینوں کا خود معائنہ کرو۔اگر ان میں کچھ صلاحیت ہو تو بقدر گنجائش اس سے خراج لو اور اس کی اصلاح کرو تا کہ آباد ہو جائے۔جن آباد زمینوں سے پیداوار نہیں ہوتی اُن سے خراج نہ لو اور اس کی اصلاح کرو تا کہ آباد ہو جائے۔جن آباد زمینوں سے پیداوار نہیں ہوتی اُن سے خراج نہ لو۔قحط زدہ زمینوں کے مالکوں سے نرمی سے خراج وصول کرو۔خراج میں صرف وزن سبعہ لوجس میں سونا نہ ہو۔ٹکسال اور چاندی پگھلانے والوں سے ٹیکس نوروز اور مہر جان کے ہدیے، عرائض نویس اور شادی کا ٹیکس ، گھروں کا ٹیکس اور نکا خانہ ( محصول چونگی ) نہ لو۔اور جوذ می مسلمان ہو جا ئیں ان پر خراج نہیں“۔جیل خانے کی اصلاح آپ سے پہلے قیدیوں سے بہت برا سلوک روا رکھا جاتا تھا۔معمولی شبہ پر گرفتار کر کے قتل کر دیے جاتے تھے۔جو قیدی جیل میں مرجائے وہ بے گور و کفن رہتے اور دوسرے قیدی تعفن سے بچنے کیلئے خود پیسے جمع کرا کے دفنا دیتے۔آپ نے ان کی اصلاح کیلئے فرمان جاری کیا۔جس کا خلاصہ یہ تھا۔ا۔ایسی بیڑی نہ پہناؤ کہ قیدی کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے۔بجز قاتل کے ہر ایک کی بیٹری رات کو کھول دی جائے۔۲۔خوراک کی جگہ انہیں نقدی دی جائے ( کیونکہ خوراک میں سے عمال خیانت کرتے تھے )۔