مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 45
45 تھے۔وہ چلتے تھے تو ساتھ نقیب و علمبردار ہوتے ، آپ نے یہ سب رسومات ختم کر دیں۔آپ سے پہلے خلیفہ صرف حاکم ہوتا تھا اور روحانی اصلاح فقہاء ومحدثین کے ذمہ تھی۔آپ نے اس دوئی کو مٹایا اور صحیح اسلامی خلافت کا روپ اپنایا۔آپ نے عمال کو جو احکامات جاری کئے ان میں اکثر و بیشتر اخلاقی نصائح ہوتیں۔ان میں حکومت کی روح سے زیادہ مشورہ و نصیحت کی روح ہوتی۔امراء کو وقت پر نماز پڑھنے کی تلقین علم کی نشر واشاعت، تقوی و اتباع شریعت کی وصیت اور اپنے علاقے میں تبلیغ دین کی ترغیب دلاتے۔امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہتمام کی تاکید فرماتے۔اسلام کے قوانین تعزیرات کی وضاحت فرماتے۔نوحہ گری عورتوں کا جنائز کے ساتھ جانا بند کراتے ، پردہ کی تاکید کرتے۔لونڈیوں کیلئے آپ نے لباس مخصوص کر دیا جس میں پردے کا خیال رکھا گیا تھا۔قبائلی عصبیت کی مذمت کرتے۔11 بیت المال کی اصلاح آپ سے قبل یہ دستور تھا کہ عمال عشاء اور فجر کے وقت نمازوں کو جاتے تو آدمی ساتھ شمع لے کر چلتا اور اس کے مصارف بیت المال سے ادا ہوتے۔اسی طرح شاہی خاندان کو وظیفہ خاصہ ملتا تھا جو آپ نے بند کر دیا۔شمس کے مصارف میں اہل بیت کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔آپ نے ان کو ان کے حصص عطا کیے۔بیت المال کی ذراسی خیانت بھی برداشت نہ کرتے تھے اور فوراً باز پرس کرتے تھے۔ایک مرتبہ یمن کے بیت المال میں سے ایک اشرفی گم ہوگئی ، آپ نے وہاں کے حاکم کو لکھا کہ تمہاری امانت پر بدگمانی نہیں کرتالیکن تمہیں لا پرواہی کا مجرم قرار دیتا ہوں۔تم پر فرض ہے کہ اپنی صفائی پر شرعی قسم کھاؤ۔معمولی معمولی باتوں میں احتیاط برتتے تھے۔آپ کے فرامین ایک بالشت سے زیادہ نہ ہوتے تھے۔کاتب کو ہدایت تھی کہ باریک قلم سے لکھا کرو۔جب اپنا ذاتی کام کرتے تو بیت المال کا چراغ گل کرا دیتے۔۲۲ بہت سے اموال کو شاہی خاندان ، اموی عمال اور دوسرے عمائدین نے اپنی ذاتی جاگیر بنالیا تھا۔آپ نے ساری موروثی جاگیر بیت المال کے سپر د کر دی۔یہ امر اگر چہ سارے خاندان کی مخالفت مول لینے کے مترادف تھا مگر آپ نے یہ فریضہ سرانجام دیا اور کسی نے اولاد کے متعلق سوال کیا تو فرمایا