مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 47
47۔قیدیوں کو سر ما اور گرما کے مطابق لباس دیا جائے۔عورتوں کو برقعہ بھی دیا جائے۔۴۔یہ رواج ختم کیا جاتا ہے کہ قیدی پابند سلاسل ہو کر بھیک مانگنے نکلیں۔۵۔جو قیدی مرجائے اور اس کے عزیز نہ ہوں تو اس کی تجہیز وتکفین بیت المال سے ہو۔تعزیرات میں حد سے نہ بڑھو بجز شرعی حق کے مسلمان کی پیٹھنگی نہ ہو۔۲۵ بدعات و رسومات کا استیصال مجدد کا ایک اہم کام صدی کے دوران پیدا شدہ فتنوں ، بدعات اور نت نئی رسومات کا قلع قمع کرنا ہوتا ہے۔آپ اس کام میں خوب مشغول نظر آتے ہیں۔آپ کے عہد میں مسلمان لہو ولہب میں مشغول تھے۔عورتیں نوحہ خوانی کرتی تھیں اور جنازوں کے ہمراہ جاتی تھیں۔آپ نے فرمان جاری کیا کہ: ا۔اس نوحہ و ماتم پر قدغن سخت کرد۔مسلمانوں کو اس لہو ولعب اور راگ باجے وغیرہ سے روکو اور جو باز نہ آئے اسے اعتدال کے ساتھ سزا دو۔۳ ۲۔اس زمانے میں بادشاہوں کی اندھی تقلید کا رواج تھا۔آپ نے مسجد دمشق میں کھڑے ہو کر بآواز بلند فرمایا اللہ کی نافرمانی میں ہماری اطاعت واجب نہیں“۔ہے۔حماموں کا رواج عام ہو رہا تھا۔مرد عورتیں بے باکانہ غسل کرتے۔پردہ اور شرم و حیاء اٹھتی جارہی تھی۔آپ نے عورتوں کے حمام پر جانے پر پابندی عائد کر دی اور مردوں کو تہہ بند باندھ کر نہانے کی پابندی کرائی۔خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جاتی۔اسی طرح حماموں کی دیواروں پر خلاف شرعی تصاویر ہوتی تھیں۔آپ نے ایک مرتبہ جا کر اپنے ہاتھوں سے انہیں مٹایا اور فرمایا اگر مصور کا معلوم ہوتا تو میں اسے سزا دیتا۔۴۔لوگوں نے رسما لمبے بال رکھنے شروع کر دیے تھے اور پٹیاں جماتے تھے۔آپ نے پولیس (Police) کو حکم دیا کہ وہ جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر کھڑی ہو جایا کرے۔جو پٹیاں جماتے ہوئے گزرے اس کے سر کے بال کاٹ ڈالیں۔۲۸۔اموی خلفاء کے عہد میں ایک بری عادت یہ چل پڑی کہ عمال خطبے میں حضرت علی پر لعن