مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 39
39 بن نصیر کے بیٹے عبد العزیز کا یہ حال تھا کہ اس نے راڈرک کی بیوہ سے نکاح کر لیا تھا۔وہ اس کی زلف کا اسیر تھا۔اس کی خواہش کے مطابق اس نے دروازہ چھوٹا بنوایا تا کہ لوگ جھک کر اس کی بیوی کے سامنے آئیں، گویا اس کو سجدہ کریں۔عبدالعزیز کے متعلق لکھا ہے کہ وہ عیسائی ہو گیا تھا۔اموی بادشاہ نماز تاخیر سے پڑھا کرتے تھے۔بلکہ صحابہ کہا کرتے تھے قد ضيعت الصلوۃ۔لوگ سنت رسول سے بیگانہ ہوا جاتے تھے۔خطبات میں حضرت علی کے خلاف زبان طعن دراز کی جاتی تھی اور سب و شتم سے کام لیا جاتا تھا۔گویا دین ملا کی میراث بن کر رہ گیا تھا۔یہ وہ سنگین و پر آشوب حالات تھے جو زبانِ حال و قال سے ایک مصلح کا مطالبہ کر رہے تھے۔تب خدا نے دین کی تجدید کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا اور 99ھ میں حضرت عمر بن عبد العزیز کے وجود میں مسلمانوں کو ایک مجد دعطا کیا جنہوں نے فاروقی عہد کی یاد تازہ کر دی۔ہے ولادت ونسب آپ 11ھ میں پیدا ہوئے۔آپ بانی سلطنت بنوامیہ مروان کے پوتے تھے۔آپ کی والدہ ام عاصم حضرت عمر بن خطاب فاروقِ اعظم کی پوتی تھیں۔فاروقیت اور امویت کے اس سنجوگ کے نتیجہ میں ایک جو ہر قابل ظاہر ہوا جس نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کردی۔خلافت سے قبل چونکہ آپ شاہی خاندان کے فرد تھے اس لیے زندگی عیش و تم سے لبریز تھی۔آپ کی تعلیم و تربیت بڑے اہتمام سے ہوئی۔مشہور محدث صالح بن کیسان آپ کے نگران مقرر ہوئے۔خوش لباسی اور نفاست پسندی کا یہ حال تھا کہ جس لباس پر ایک دفعہ کسی کی نظر پڑ جاتی دوبارہ اسے استعمال نہ کرتے۔داڑھی پر عنبر چھڑکتے تھے۔رجاء بن حیوۃ کا بیان ہے کہ آپ اپنے زمانے کے سب سے زیادہ خوش لباس، معطر اور تبختر کی چال چلنے والے تھے۔ھے بشارت