مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 38
38 ریز ہونے کی حالت میں سنان بن انس نے تن سے جدا کر دیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون ہمارا وجدان ششدر ہے اور ہماری نظر کوتاہ ہے اس بات کے ادراک سے کہ کوفے والے کیسے مسلمان تھے جن کے دلوں میں محبت رسول اور آل رسول اتنی سرد ہو چکی تھی کہ ایک چنگاری بھی سلگ نہ سکی۔وہ معصوم جسے رسول نے اپنا محبوب، سردار بہشت اور جنت کی خوشبو قرار دیا تھا بیدردی سے شہید کر دیا گیا۔یقیناً اس المناک واقعہ پر آسمان بھی گریہ کناں ہوا ہوگا ، زمین نے بھی فریاد کی ہوگی مگر وہ پتھر دل ” مسلمان ٹس سے مس نہ ہوئے ، غفلت کے لحاف اور گمراہی کی دبیز اوڑھنیاں ان پر طاری رہیں۔وہ رسول جو عالمی رواداری کا علمبر دار تھا جو دشمنوں کیلئے بھی بارانِ رحمت تھا اس کی طرف منسوب ہونے والوں نے جگر گوشہ رسول کو پانی پینے سے روک دیا۔سخت پیاس کی حالت میں جب آپ دریائے فرات کی طرف بڑھے تو پانی کی بجائے سنسناتے تیر نے آپ کا استقبال کیا۔چہرہ مبارک خون آلودہ ہو گیا ، اس طرح زخموں سے چور اور نڈھال وجود کو ظالموں نے تیروں و تلواروں سے شہید کر دیا۔امت محمدیہ انتشار کا شکار تھی۔مروان کے زمانے میں ایک طرف توابین کا خروج تھا تو دوسری طرف مختار بن ابی عبید ثقفی ظاہر ہو چکا تھا جس نے خود کو مہدی وقت ظاہر کیا اور قتل حسین کے نام پر بہت سے بے گناہوں کے سر قلم کرادیے۔جو عرب اس کے مقابل اُٹھے انہیں قتل کرا دیا۔خوارج الگ فتنہ بن کر ظاہر ہو چکے تھے۔یوں امت میں متعدد فرقے تھے جن میں سے ہر ایک دوسرے کی جان کا دشمن تھا۔حالت اتنی دگر گوں تھی کہ حرم مقدس جہاں گھاس کے سوا کسی درخت کو کاٹنا بھی منع تھا وہاں جنگ و جدل شروع ہو چکا تھا اور انسان گاجر مولی کی طرح کٹ رہے تھے۔حجاج نے حرم پر سنگ باری کرائی جس سے خانہ کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا۔سے کھ میں عبدالمالک کے زمانے میں رومیوں نے شام پر حملے کا ارادہ کیا۔ادھر اندرون ملک ابن زبیر خطرے کا الارم بنا بیٹھا تھا۔تب مسلمان ملک کے خلیفہ نے ہزار دینار فی ہفتہ تاوان پر رومیوں سے صلح کرلی۔۔۔حجاج کے ظلم وستم کی تو طویل داستان ہے۔ابن زبیر اور سعید بن جبیر جیسے نڈر، بیباک اور صاف گو صحابہ کو شہید کر دیا۔بعض بزرگ صحابہ کو کوڑے لگائے گئے۔نا جو ہر شناسی اور بیقدری کا یہ عالم تھا کہ محمد بن قاسم اور موسیٰ بن نصیر جیسے عظیم جرنیلوں کو ذاتی عناد کی بناء پر ہلاک کرا دیا گیا۔اور موسیٰ