مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 40
40 حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے کہ میری اولاد میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کے چہرے پر داغ ہوگا اور وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔21 یہ پیشگوئی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے وجود میں پوری ہوئی۔چہرے پر داغ بھی تھا اور عدل پھیلانے کا عزم بھی شروع سے ہی کر رکھا تھا۔جب ولید نے انہیں مدینہ کی گورنری پیش کی تو انہوں نے اس شرط پر اسے قبول کیا کہ میں دوسرے عمال کی طرح کام نہیں کروں گا۔ولید نے اسے منظور کیا۔ہے سر پر خلافت پر آنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ سے احیائے دین کا کام لینا تھا اس لیے ماہ صفر ۹۹ ھ میں آپ خلیفہ بنے اور خلافت کے بعد آپ کی زندگی یکسر بدل گئی۔اب آپ عمر بن خطاب کے جانشین نظر آتے تھے۔آپ کی زندگی میں ابوذر غفاری کا سا زہد نظر آتا تھا۔جب اپنے پیش روسلیمان کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر آ رہے تھے تو آپ کو شاہی سواریاں پیش کی گئیں۔آپ نے انہیں خالی واپس لوٹا دیا اور فرمایا مجھے میرا خچر ہی کافی ہے۔۵ یوں آپ کی زندگی میں ایک انقلاب بپا ہوا۔آپ کی عیش پرست زندگی پر موت وارد ہوئی اور ایک نئے وجود نے جنم لیا جو ایک دینی رہنما اور مجدد اسلام کی تمام خصوصیات اپنائے ہوئے تھا۔جب آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا تو آپ نے آغا ز خلافت میں تقریر فرمائی۔جس میں آپ نے فرمایا:- يـا ايـهـا الـنـاس انه ليس بعد نبيكم نبئ و ليس بعد الكتاب الذي انزل عليكم كتاب۔۔۔۔الا اني لست بقاضى وانما انا منفذ الا ولست بمبتدع ولكن متبع - 2 تمہارے نبی کے بعد دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے اور جو کتاب اس پر اتاری گئی ہے اس کے بعد دوسری کوئی کتاب آنے والی نہیں ہے۔میں (اپنی طرف سے ) کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں ہوں بلکہ صرف احکام الہی کو نافذ کرنے والا ہوں۔خود اپنی طرف سے کوئی بدعت پیدا کرنے والا نہیں بلکہ محض پیرو ہوں۔اور واقعتاً دو سال کے قلیل عرصہ میں آپ نے احکام الہی کو ہی نافذ کیا۔بدعات کا خاتمہ کیا، امراء وعمال کا احتساب کیا اور بگڑے ہوئے دین کی اصلاح کر دی۔جس کا تفصیلی تذکرہ آئندہ صفحات