مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 8 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 8

8 مجد د شریعت موسوی تھے اور یہ امت خیر الامم ہے۔قـال الـلـه تـعـالـى كنتم خير امة اخرجت للناس۔پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس امت کو خدا تعالیٰ بالکل گوشہ خاطر عاطر سے فراموش کر دے اور باوجود صد ہا خرابیوں کے کہ جو مسلمانوں کی حالت پر غالب ہوگئی ہیں اور اسلام پر بیرونی طور پر حملے ہورہے ہیں نظر اُٹھا کر نہ دیکھے جو کچھ آج اسلام کی حالت خفیف ہورہی ہے۔کسی عاقل پر مخفی نہیں یعنی تعلیم یافتہ عقائد حقہ سے دستبردار ہوتے جاتے ہیں۔پرانے مسلمانوں میں صرف یہودیوں کی طرح ظاہر پرستی یا قبر پرستی رہ گئی ہے۔ٹھیک ٹھیک رو بخدا کتنے ہیں کہاں ہیں اور کدھر ہیں؟“ ۲۰ مزید فرمایا:- یہ وسوسہ بالکل نکما ہے کہ قرآن شریف اور احادیث موجود ہیں پھر مجدد کی کیا ضرورت ہے۔یہ انہی لوگوں کے خیالات ہیں جنہوں نے کبھی غم خواری سے ایمان کی طرف نظر نہیں کی۔اپنی حالت اسلامیہ کو نہیں جانچا۔اپنے یقین کا اندازہ معلوم نہیں کیا بلکہ اتفاقاً مسلمانوں کے گھر پیدا ہو گئے اور پھر رسم اور عادت کے طور پر لا الہ الا اللہ کہتے رہے۔حقیقی یقین اور ایمان بجز صحبت صادقین میسر نہیں آتا۔قرآن شریف تو اس وقت بھی ہوگا جب قیامت آئے گی مگر وہ صدیق لوگ نہیں ہوں گے کہ جو قرآن شریف کو سمجھتے تھے اور اپنی قوت قدسی سے مستعدین پر اس کا اثر ڈالتے تھے۔ولا يمسه الا المطهرون پس قیامت کے وجود کا مانع صرف صدیقوں کا وجود ہے۔قرآن شریف خدا تعالیٰ کی روحانی کتاب ہے اور صدیقوں کا وجود خدا کی ایک مجسم کتاب ہے۔جب تک یہ دونوں نمایاں انوار ایمانی ظاہر نہیں ہوتے تب تک انسان خدا تک نہیں پہنچتا۔فتدبروا و تفكروا“۔ضرورت مجددین ایک سوال ذہنوں میں یہ اُبھرتا ہے کہ جب شریعت مکمل ہے تو کسی مصلح یا مجدد کی کیا ضرورت ہے۔قرآن بلا تغیر و تبدل ہمارے پاس ہے کیا اس کے ذریعہ اصلاح نہیں ہو سکتی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ کتاب ہمارے پاس مکمل اور محفوظ حالت میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود ایسے