مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 9
افراد کی ضرورت ہے جو نائب الرسول ہوں۔قرآنی اسرار ان پر کھلیں اور وہ عوام الناس تک پہنچائیں۔ان کے عملی نمونہ کے ذریعہ اصلاح ہو۔ویسے بھی تجدید اور تغیر تو فطرت میں ہے۔دنیا کی ہر شے کسی نہ کسی رنگ میں تبدیلی کے عمل سے گزررہی ہے۔اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- تجدید کا قانون یہ روزہ مرہ دیکھتے ہیں۔ایک ہفتہ کے کپڑے بھی میلے ہو جاتے ہیں اور ان کے دھلانے کی ضرورت پڑتی ہے۔لیکن کیا پوری صدی گزر جانے کے بعد بھی مجدد کی ضرورت نہیں ہوتی ؟ ہوتی ہے اور ضرور ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد اصلاح خلق کیلئے آتا ہے کیونکہ صدی کے اس درمیانی حصے میں بہت سی غلطیاں اور بدعتیں دین میں شامل کر لی جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کبھی پسند نہیں فرما تا کہ اس کے پاک دین میں خرابی رہ جائے اس لئے وہ ان کی اصلاح کی خاطر مجدد بھیجتا ہے۔۲۲ حضرت مرز البشیر احمد صاحب ایم۔اے نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف تبلیغ ہدایت میں ضرورت مجددین پر تفصیلی بحث فرمائی ہے۔جس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔حضرت مرزا صاحب اس سوال کا جواب کہ شریعت مکمل ہے کیا خود اصلاح نہیں ہو سکتی اور کسی مصلح کی کیا ضرورت ہے ، دیتے ہوئے فرماتے ہیں :- ا۔ہمارا مشاہدہ اس کے خلاف ہے۔باوجود اکمل تعلیم کے مسلمان پستی کی طرف جارہے ہیں اور تاریخ عالم میں ایک مثال بھی ایسی نہیں کہ کوئی قوم مذہبا گر کر پھر خود اٹھی ہو۔۲۔خدا کی سنت یہی ہے کہ جب ظلمت بڑھ جائے تو خدا کی طرف سے اصلاح کرنے کیلئے کوئی آیا کرتا ہے جس طرح موسیٰ کی امت میں تو راہ مکمل ہونے کے باوجود مصلحین آتے رہے۔فرمایا وقفينا من بعده بالرسل - ٢٣۔تعلیم تو بیشک مکمل ہے لیکن اگر مکمل تعلیم پر لوگوں کی حاشیہ آرائی چڑھ جائے تو پھر وہ کیسے اصلاح کر سکتی ہے۔یتعلیم بیشک ایک جو ہر دار تلوار کی مانند ہے لیکن اس کا دھنی بھی کوئی ہونا چاہئے۔۴۔کوئی بھی تعلیم ہو جب تک اس کے ہمراہ زندہ نمونے نہ ہوں وہ ناقص رہتی ہے۔۔ایمان کا درخت ایسا ہے کہ اگر اسے بار بارتازہ نشانات سے سیراب نہ کیا جائے تو یہ