مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 297
297 یہ پُرشوکت اعلان حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔آپ نے دل شکستہ مسلمانوں کو یہ نوید سنائی کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔جس کی پیاری صفات حسنہ میں سے کوئی صفت بھی مرور زمانہ سے معطل نہیں ہوئی۔وہ آج بھی سنتا ہے جیسے پہلے سنتا تھا ، وہ آج بھی بولتا ہے جیسے پہلے بولتا تھا۔فرمایا :- زندہ مذہب وہ ہے جس کے ذریعہ سے زندہ خدا ملے۔زندہ خدا وہ ہے جو ہمیں بلا واسطہ اہم کر سکے اور کم سے کم یہ کہ ہم بلا واسطہ لہم کو دیکھ سکیں۔سو میں تمام دنیا کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے۔( مجموعہ اشتہارات مطبوعہ لندن 1984ء جلد 2 صفحہ 311) آپ نے اپنی ذات اور ذاتی تجربہ کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے دنیا کو یہ خوشخبری عطا کی کہ دیکھو خدا نے مجھے اس نعمت سے سرفراز فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا : - ” خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق ہو جانا بجز اسلام قبول کرنے کے ہرگز ممکن نہیں۔ہرگز ممکن نہیں آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ زندہ خدا کہاں ہے اور کس قوم کے ساتھ ہے۔وہ اسلام کے ساتھ ہے۔اسلام اس وقت موسیٰ کا طور ہے جہاں خدا بول رہا ہے۔وہ خدا جو 66 نبیوں سے کلام کرتا تھا اور پھر چپ ہو گیا آج وہ ایک مسلمان کے دل میں کلام کر رہا ہے۔(روحانی خزائن مطبوعہ لندن 1984 ء جلد 11 ضمیمہ انجام آتھم صفحہ 62) آپ کا یہ اعلان ایک انقلاب آفریں اعلان تھا جس نے مذہب کی دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یہ نقیب اور شاہد ایک مقناطیسی وجود ثابت ہوا جس کی طرف سعید فطرت لوگ قافلہ در قافلہ آنے لگے اور اس وجود کے فیضان سے سیراب ہو کر باخدا انسان بن گئے۔یہ وہ گروہ قدوسیاں تھا جو ایک عالم کیلئے خدا نمائی کا وسیلہ بن گیا۔احمدیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دنیا پر احسان عظیم فرمایا کہ دنیا کو وہ برگزیده مسیح موعود اور امام مہدی عطا کیا جس نے دنیا کو زندہ خدا کی خوشخبری دی ، زندہ خدا کی زندہ تجلیات پر ایک زندہ ایمان اور محکم یقین بخشا۔اپنی ذات کو ہستی باری تعالیٰ کے ایک زندہ گواہ کے طور پر پیش کیا اور اپنے ماننے والوں میں اپنی عظیم قوت قدسیہ کے ذریعہ ایسا پاکیزہ انقلاب پیدا کیا کہ وہ خدا نما وجود بن گئے۔احمدیت نے