مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 298
298 ایسے خدا نما قدوسیوں کا ایک گروہ کثیر دنیا کو عطا فرمایا۔جس کے زندگی بخش تجربات ہمیشہ نسل انسانی کیلئے خدا نمائی کے راستوں کو منور کرتے رہیں گے۔ہزاروں مثالوں میں سے ایک مثال عرض کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت مولوی محمد الیاس خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ ریاست قلات کے قاضی القضاة عبدالعلی اخوند زادہ نے مستونگ کے ایک بڑے مجمع میں علی الاعلان آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا سارے صوبہ سرحد میں آپ کو کوئی روحانی پیر نہیں ملا جو آپ نے پنجاب جا کر ایک پنجابی مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت کر لی؟ حضرت مولوی صاحب نے جو برجستہ اور ایمان افروز جواب دیا وہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔آپ نے فرمایا:- صلى الله دراصل بات یہ ہے کہ اخوند زادہ صاحب! مجھ سے میرا خدا گم ہو گیا تھا۔میں ہر مذہب میں اس کو ڈھونڈتا رہا۔ہر مذہب مجھے پرانے قصوں کی طرف لے جاتا۔میں نے ہر ایک سے پوچھا کیا وہ خدا اب بھی بولتا ہے؟ تو وہ کہتے اب نہیں بولتا۔مسلمانوں کے بہتر فرقوں میں سے ہر ایک کے پاس گیا تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا کہ حضرت محمد مصطفیٰ ے کے بعد اب خدا نہیں بولتا۔وحی کا دروازہ مطلق بند ہے۔تب میں اس نتیجے پر پہنچا کہ خدا حقیقت نہیں ہے۔بلکہ ایک فلسفہ ہے جو پرانے قصوں پر منحصر ہے۔ورنہ اللہ تو وہ ہونا چاہیے جس کی تمام صفات حسنہ کی کان ہو، کوئی صفت بھی معطل نہ ہو۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پہلے بولتا تھا اور اب اس کی صفت تکلم پر مہر لگ جائے۔میں عنقریب دہر یہ ہونے والا تھا۔پیچھے سے ایک نرم ہاتھ نے میرے کندھے کو پکڑا اور کہا کیوں محمد الیاس کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہے؟ میں نے کہا کہ خدا کی حقیقت معدوم ہوگئی ، وہ ایک فلسفہ ہے۔حقیقت میں نہیں ہے۔کیونکہ جس سے پوچھتا ہوں وہ یہی کہتا ہے کہ خدا پہلے بولا کرتا تھا اب نہیں بولتا۔اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور یہ شخص حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تھے اور کہا کہ آؤ میں تمہیں بتلاتا ہوں ، وہ خدا اب بھی بولتا ہے۔شرط یہ ہے کہ تم میرے ہاتھ پر بیعت کرو۔کیونکہ میں خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی ہوں۔وہ خدا تم پر بھی نازل ہو جائے گا۔اگر چاہے تو تم سے