مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 296
296 حضرت مسیح موعود کے کارنامے زندہ خدا عطا کیا اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایمان اور یقین در حقیقت مذہب کی بنیاد اور روحانیت کا مرکزی نقطہ ہے۔اس کے بغیر مذہب کا تصور ہی کالعدم ہو جاتا ہے۔اسلام نے خدا تعالیٰ کی ہستی کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر پیش کیا ہے جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک اور رب العالمین ہے۔اس خدا کا دیدار اس دنیا میں ممکن ہے۔اسلام کا پیش کردہ خدا ایک زندہ اور حی و قیوم خدا ہے۔اس کی ہستی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کا جواب دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہےادعونی استجب لكم (مؤمن : 61) کہ اے میرے بندو! مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں سنوں گا اور اسی خدا کا یہ وعدہ بھی ہے کہ اگر تمہارا ایمان سچا ہوگا اور تم استقامت کی چٹان پر پختگی سے قائم ہو گے تو تمہیں وحی والہام کی دولت عطا ہوگی اور تم فرشتوں سے ہمکلام ہو سکو گے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔لیکن افسوس کہ جب اس دور آخرین میں مسلمانوں پر عقائد و اعمال میں کمزوری کا دور آیا تو انہوں نے ان پیاری تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا۔مجیب الدعوات زندہ خدا پر ان کا ایمان اٹھ گیا۔اللہ تعالیٰ کی لقاء اور وحی والہام کے منکر ہو گئے۔یہ ساری باتیں جو قرآن مجید میں بڑی شوکت اور تحدی کے ساتھ بیان ہوئی ہیں اور جو دراصل اسلام کو سب مذاہب سے ممتاز کرتی ہیں۔افسوس کہ اس دور کے مسلمان ان سب باتوں سے کلیہ نا آشنا ہو گئے۔خدا تعالیٰ کی پیاری ہستی کا دار با تذکرہ ان کی مجالس سے مفقود ہونے لگا۔کوئی نہ تھا جو خدا کے زندہ کلام کی بات کرتا ہو۔قبولیت دعا کا ذکر بھی ایک قصہ پارینہ بن گیا۔اس انتہائی تاریکی اور مایوسی کے عالم میں قادیان کی گمنام بستی سے یہ نعرہ تو حید بڑے جلال سے بلند ہوا۔وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار