مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 291 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 291

291 سیح اور مہدی کا مقام اور احادیث نبویہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں: مثل امتی مثل المطر لا يدرى اوله خير ام اخره (مشكوة كتاب الرقاق باب ثواب هذه الامته ) - کہ میری امت کی مثال اس بارش کی سی ہے کہ جس کے متعلق معلوم نہیں کہ اس کا اول حصہ بہتر ہے یا آخری حصہ۔آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں امت کی مثال بارش سے دی ہے اور بتایا ہے کہ معلوم نہیں کہ اس کا اول زیادہ بہتر ہے یا آخر۔آپ نے امت کی ابتداء کو بہتر تو اس بنا پر قرار دیا کہ آپ امت میں موجود تھے اور امت کے آخر کو بہتر قرار دینا اس بنا پر ہوسکتا ہے کہ آخری زمانہ میں امت میں آپ کے مظہر کامل مسیح اور مہدی نے ظاہر ہونا تھا۔۲۔آپ نے آخری زمانہ میں آنے والے مسیح موعود کو نبی اللہ کے خطاب سے نوازا۔چنانچہ مسلم کی حدیث میں آپ کیلئے چار دفعہ نبی اللہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال وصفته ) ۳۔آپ نے آنے والے موعود کی اطاعت کو اپنی اطاعت اور اس کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی قرار دیا۔( بحارالانوار جلد 13 صفحہ 71) آپ نے آنے والے موعود کو قبول کرنے کی امت کو یہاں تک تاکید فرمائی کہ اگر برف کے پہاڑوں پر سے گھسٹ کر بھی جانا پڑے تو پھر بھی اسے قبول کرنا اور اس کی خدمت میں حاضر ہو کر میر اسلام پیش کرنا۔(ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المهدی) ۵۔پھر آپ نے فرمایا کہ جس نے مہدی کو جھٹلایا اس نے گویا کفر کیا۔حج الكرامه صفحه 351 از نواب محمد صدیق حسن خان - مطبع شاہجہانی بھوپال)