مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 290
290 مسیح و مہدی کا مقام اور قرآن شریف قرآن کریم کی سورۃ الجمعہ آیت 4,3 میں آنحضرت ﷺ کی دو بعثوں کا ذکر کیا گیا ہے۔آپ کی پہلی بعثت عرب کے امتیوں میں ہوئی اور دوسری بعثت و اخـريـن مـنـهـم لـما يلحقوا بهم كے مطابق آخرین میں مقدر تھی۔جب یہ آیات نازل ہوئیں تو صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یہ آخرین کون لوگ ہیں جن میں حضور ﷺ کی دوسری بعثت ہوگی۔اس پر آنحضرت ﷺ نے مجلس میں موجود حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمايالــو كـان الايمان معلقا بالثريا لنا له رجل او رجال من هؤلاء ( بخارى كتاب التفسير سورۃ الجمعہ)۔اگر ایمان ثریاستارے پر بھی چلا گیا تو ایک فارسی الاصل شخص یا اشخاص اس ایمان کو دوبارہ دنیا میں قائم کریں گے۔پس اس آیت میں آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والے فارسی الاصل شخص کی بعثت کو آنحضرت ﷺ کی بعثت قرار دیا گیا ہے۔گویا آنے والا موعود آنحضرت ﷺ کا حل کامل ہوگا۔هو الذي ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين۔(الصف: 10) وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا تا کہ وہ اسے تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے۔اس آیت کی تفسیر میں مفسرین لکھتے ہیں کہ اسلام کا ادیان باطلہ پر غلبہ مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہوگا۔اس آیت کے اصل مصداق آنحضرت ﷺ ہی ہیں۔لیکن وہ موعود غلبہ مسیح اور مہدی کے زمانہ میں ظاہر ہونا تھا۔اس لیے مسیح اور مہدی کو آنحضرت ﷺ سے جدا نہیں سمجھا گیا بلکہ اس کا آنا آنحضرت ﷺ کا آنا قرار دیا گیا۔اس مفہوم کی وضاحت آنحضرت ﷺ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے۔جیسا کہ آپ نے فرمایایهلک الله فی زمانه الملل كلها الا الاسلام (ابوداود کتاب الملاحم باب خروج الدجال)۔امام مہدی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا باقی تمام ادیان کو مٹادے گا۔پس اس آیت سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امت میں ظاہر ہونے والے مسیح اور مہدی آنحضرت کے روحانی فرزند اور نل کامل ہوں گے۔اس لیے اس کے زمانہ میں ظاہر ہونے والے غلبہ کو آنحضرت ﷺ کا غلبہ قراردیا گیا ہے۔