مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 232
232 ہوتے گئے۔سید صاحب چونکہ مجد دوقت تھے اور آپ کا جہاد بھی شریعت اسلامیہ کے نفاذ کیلئے تھا اس لیے آپ جنگ و جدال کے ساتھ ساتھ جہاد بالنفس کی تلقین بھی کرتے تھے۔بد رسوم کا خاتمہ کرتے اور بدعات کا استیصال کرتے۔سرحد کے خوانین جولڑنے مرنے پر تو آپ کے ساتھ فورا ہو گئے تھے جب انہوں نے اس معاشرہ کے انقلاب کو دیکھا جس سے ان کی جھوٹی ساکھ اور انانیت پر ضرب کاری لگتی تھی تو یہ بات انہیں ناگوار گزری۔بعض خواتین نے آپ سے غداری کی۔یار محمد خان سکھوں سے جا ملا۔عین میدان جنگ میں ان کی غداری رنگ لائی اور مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی۔اسلامی تاریخ کا یہ باب کتنا المناک ہے۔بغداد واندلس ہو کہ شتیلہ وصابرہ یا ہندوستان ہو ہر جگہ پر ہوس پرستی ، اپنوں کی بد عہدی و غداری یہی مشترکہ عناصر ہیں جو مسلمانوں کی شکست کے اسباب بنے۔شہادت اسی طرح درانی قبائل نے بھی غداری کی۔ان بد عہد خوانین سے تنگ آکر آپ نے مرکز بدلنے کا ارادہ کیا اور کشمیر کی تنگ و تاریک گھاٹیوں سے گزرتے ہوئے بالا کوٹ پہنچے اور یہاں مرکز قائم کر لیا۔سکھوں کی طرف سے رنجیت سنگھ کا بیٹا شیر سنگھ ایک بڑی جمعیت لے کر مقابلہ کیلئے پہنچا اور 6 مئی 1931ء کو بمطابق 13 ذیقعدہ 1246ھ خون ریز لڑائی ہوئی جس میں شاہ اسماعیل صاحب اور سیّد احمد صاحب نے جام شہادت نوش کیا۔انا لله و انا اليه راجعون بنا کردند خوش رسمی به خاک و خون غلطیدن خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را یوں وہ پیکر عزم و ہمت ہزارہ کے شمال مشرقی گوشے میں ابدی نیند سو گیا۔وہ چراغ گل ہو گیا لیکن جاتے جاتے ہزار ہادلوں میں نور ایمان کی قندیلیں روشن کر گیا۔سکھوں نے لاش تلاش کرائی تو سرتن سے جد ا ملا۔دونوں کو ملا کر انہوں نے باعزاز دفن کیا۔لیکن دوسرے یا تیسرے روز نہنگ کے سکھوں نے دوبارہ لاش نکال کر دریا میں بہادی۔اس طرح سر پھر جسم مبارک سے الگ ہو گیا۔لاش گڑھی حبیب اللہ خان کے قریب پہنچی تو کسانوں نے نکال کر دفنایا اور سر تھوڑ اسا دور گڑھی کے اندر ملا چنانچہ اُسے الگ وہاں دفن کر دیا گیا۔آپ کی شہادت بروز جمعہ 11 بجے