مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 231
231 ”اے ہمارے پروردگار تو خوب جانتا ہے کہ یہ سب لوگ محض تیری خوشنودی اور رضاء جوئی کیلئے اپنے گھر بار، اہل و عیال اور مال و منال چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔۔۔ہم جو چند ضعفاء اور غرباء تیرے عاجز بندے باقی ہیں ان کو بھی (دوسرے شہداء کی طرح) اپنی رضامندی اور خوشنودی کی راہ میں جان و مال قربان کرنے کی توفیق عطا فرما۔ہمارے سینوں میں جو شیطانی خطرات اور نفسانی وساوس فتور کرتے ہیں ان کو دور کر دے۔دلوں کو اپنے اخلاص اور محبت سے معمور رکھ اور اپنے دین کو قوت اور ترقی بخش۔جولوگ اس دین کے دشمن اور بدخواہ ہیں انہیں ذلیل ورسوا کر۔جو مسلمان شریعت کے راہ راست سے ہٹ کر باد یہ ضلات میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں انہیں ہدایت دے اور پکے مسلمان بنادے تا کہ اس کار خیر میں جان و مال اور اہل وعیال سے شریک ہوں۔19 آپ کو جاہ و حشمت سے قطعا لگاؤ نہ تھا۔آپ نے صرف اعلائے کلمتہ اللہ اور احیائے دین کی خاطر تیر و تفنگ و حرب وسنان کا بازار گرم کیا تھا۔استقا جہاد کے سلسلہ میں آپ کو اللہ نے استقامت سے بھی نوازا تھا۔معتمد الدولہ آغا جو نائب السلطنت اودھ تھا اس نے آپ سے بدعہدی کی اور جبراً آپ سے کہا کہ شیعہ حضرات کو حلقہ ارادت میں شامل نہ کریں اور نہ لشکر کشی کی دھمکی دی۔آپ چونکہ فرقہ پرستی کی لعنتوں سے پاک تھے۔اس لیے آپ نے اس کو سختی سے جواب دیا۔آپ میرے قدیمی آشنا ہیں اور میرا حال جانتے ہیں۔یہ بات مجھ سے نہ ہوگی کہ کلمہ حق سے رک جاؤں۔دو چار تو ہیں کیا چیز ہیں میں تو سوتو پوں سے بھی نہیں ڈرتا۔اگر مالک حقیقی میرا مددگار ہے تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا“۔بے 7 جمادی الآخر 1244 ھ کو آپ رائے بریلی روانہ ہوئے۔مختلف بلاد سے گزرتے ہوئے آپ پشاور پہنچے۔اکوڑہ کے مقام پر سکھوں پر حملہ کیا اور انہیں شکست دی۔اس فتح سے مسلمانوں کے حوصلے جوان ہو گئے اور نوجوان سید صاحب کے لشکر میں شامل ہونے لگے۔رفتہ رفتہ یہ تعداد لاکھوں تک جا پہنچی۔آپ کو پے در پے فتوحات حاصل ہوتی رہیں اور سرحد میں اسلامی حکومت کے قدم مضبوط