مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 227 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 227

227 مندرجہ بالا حوالہ جات سے آپ کی تجدید دین کی مساعی جمیلہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔آپ کا وجود اسلام کے حق میں بارانِ رحمت اور بادِ بہاری ثابت ہوا۔دینداری اور تشرع کی ایک ہوا چل پڑی۔آپ کے ہاتھوں پر لاکھوں انسانوں نے توبہ کی۔فساق و فجارا ابرار واخیار ہو گئے۔آپ جدھر سے گزرے اُدھر ہی عمل کا شوق۔عبادت الہی کا ذوق، اتباع سنت کا ولولہ پیدا ہوتا گیا۔شراب کے کاروبار ٹھپ ہو گئے ، میخانوں میں خاک اُڑنے لگی اور مساجد آباد اور بارونق ہو گئیں۔الغرض آپ نے گرد سے اٹے ہوئے اسلام کو صیقل کیا۔مستور ایمان کو منکشف کیا۔دلوں کے تالے کھولے۔ایمان وایقان کی شمع فروزاں کی ، اس طرح تجدید دین کا حق ادا کر دیا۔سفر حج اور احیائے اسلام سید صاحب کے وقت میں فرنگیوں نے سمندر پر قبضہ کر رکھا تھا اور حج کے خطرات بڑھ رہے تھے۔چنانچہ لکھنو کے علماء نے فرضیت حج کے سقوط کا فتویٰ دے دیا اور بعض علماء نے لا تلقوا باید کم الى التهلكة سے استدلال کر کے حرمت جہاد کا فتویٰ بھی دے دیا۔لیکن سید صاحب کا سفر حج دراصل سارے ہندوستان کا تبلیغی دورہ بھی تھا اور آپ لوگوں کو ساتھ رکھ کر ان کی تربیت کرنا چاہتے تھے۔اور آپ کے نزدیک ابھی سقوط حج یا حرمت جہاد کا وقت نہیں تھا۔بلکہ جہاد کا وقت تھا۔اس لیے سید صاحب اور آپ کے رفقاء نے بذریعہ دلائل قاطعہ اس کا رڈ کیا اور حج پر جانے کا عزم صمیم کیا اور فرمایا جو مسلمان چاہے تیار ہو جائے خواہ اس کے پاس پیسے ہوں یا نہ ہوں میرے ہمراہ حج کرے۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ سید صاحب کی اس سفر سے غرض تبلیغ دین و تجدید اسلام تھی۔جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا:- مجھ کو عنایت الہی سے امید قوی ہے کہ اس سفر میں اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ سے لاکھوں آدمیوں کو ہدایت نصیب کرے گا اور ہزاروں ایسے لوگ کہ دریائے شرک و بدعت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور شعار اسلام سے مطلق ناواقف ہیں وہ پکے موحد اور متقی ہوں گئے“۔اسے چنانچہ شوال 1336 ھ کی آخری تاریخ بمطابق 30 جولائی 1821 ء کو آپ چارسور فیقوں کے ہمراہ حج کو روانہ ہوئے اور تین ماہ کلکتہ میں قیام فرمایا۔اصلاح واحیائے دین کا کام جاری رکھا۔لاکھوں