مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 228
228 مسلمانوں نے ہدایت پائی اور بہت سے غیر مسلم اسلام لائے۔۳۲ے حجاز کو روانہ ہونے تک مختلف شہروں کے سات سو ترین آدمی آپ کے ہمراہ تھے۔تیرہ ہزار آٹھ سو ساٹھ روپیہ کرایہ دے کر سب کو دس جہازوں میں سوار کرایا۔تینتیس ہزار روپیہ کا سامان خوراک خریدا، حجاز میں قیام اور واپسی کا خرچ بھی سید صاحب نے برداشت کیا اور لطیفہ یہ کہ جب گھر سے چلے تو پاس دھیلہ تک نہ تھا۔۳۳ کس طرح خدا اپنے بندوں کی مددکرتا ہے اور مشکل وقت میں وفاداری دکھاتا ہے۔آپ 29 شعبان 1239ھ بمطابق 29 اپریل 1824ء کو وطن واپس پہنچے۔گویا اس سفر میں دو سال اور دس ماہ صرف ہوئے۔قریباً لاکھ روپیہ خرچ ہوا اور ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد نے نور ہدایت سے حصہ پایا۔سید صاحب کی مراجعت پر مولانا ابوالحسن صاحب نے ایک قصیدہ لکھا جس کے چند اشعار لکھنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔مولانا سید صاحب کی کامیاب مراجعت پر کہتے ہیں آتی ہے ہر سمت سے بانگ مؤذن کی صدا جس کو سنئے یہی کہتا ہے اللہ اکبر اس قدر عصر میں تیرے ہوئی افرط نماز لاکھوں تیار ہوئے ملک میں پھوٹے منبر قطع بدعات ہوئی فیض سے تیرے ایسی ہند سے رسمیں بری اُٹھ گئیں ساری یکسر دیکھئے جس کو سو کرتا ہے کلام اللہ کو یا د باندھی ہے ہر شخص نے تہذیب و ہدایت پر کمر ۳۲ جہاد سیّد صاحب کے زمانے میں سکھوں نے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا۔مسلمانوں کو مساجد بنانے پر پابندی تھی۔اذان کی آواز اونچی سنائی دیتی تو سزائیں دی جاتی تھیں۔مسلمان عورتوں کی عزتیں غیر محفوظ تھیں۔سکھوں کی منظم غارت گری کا آغا ز بندہ بیراگی“ سے ہوا۔اس شخص کی تباہ کاریوں کے متعلق جان میلکم لکھتا ہے :- ” ہمیشہ یادر کھنے والی اس یورش کی تفصیلات بیان کرنا غیر ضروری ہے۔تمام روایتوں کے مطابق یہ بدترین لعنت تھی جو کبھی کسی ملک کیلئے سرچشمہ آزار بنی۔نہایت درجہ وحشیانہ بربریت جن تعدیوں کی مرتکب ہو سکتی تھی اور انتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ جن بے دردیوں کی