مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 226
226 "1822ء میں سید صاحب کلکتہ آئے۔مسلم آبادی بہت بڑھی اور ایک کثیر تعداد ان کی پیرو بن گئی۔برما میں تبلیغ برما کے علاقے سے ایک صاحب سید حمزہ آئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اس طرح آپ کی تحریک برما پہنچی۔آپ نے رؤساء، امراء اور عوام الناس کو الگ الگ خطوط لکھ کر جہاد پر آمادہ کیا اور اس جہاد سے آپ کا مقصد سراسر اعلائے کلمہ حق تھا۔آپ نے ملک کے مختلف حصوں میں داعیانِ حق کا تقرر کیا۔آپ کی تجدید دین کا اثر مولانا عبدالحئی صاحب اپنے سفر نامہ ارمغان احباب میں رقمطراز ہیں :- اس وقت تک سہارنپور کے جس قدر قصبوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے وہاں ہر فردِ بشر کو سید صاحب کا دم بھرتے پایا۔جو ہے ان کی محبت میں چور ہے اور سب بالاتفاق کہتے ہیں کہ ہم کو اسلام اور ایمان کی سیدھی راہ اُن سے ملی ہے۔برائے نام مسلمان تھے۔جتنے مشائخ ہیں وہ سب اس سلسلہ کو مقدم جانتے ہیں۔میں نے فی عمری میں جتنا چرچا ا سید صاحب کا دیکھا اتنا چر چا کہیں نہیں دیکھا۔اس طرف کی مساجد عموماً آباد ہیں۔ہر مسجد میں حمام گرم ہورہے ہیں۔ہر مسلمان کم سے کم نماز و تلاوت کا ضرور شائق ہے۔میرے گمان میں ضلع سہارنپور کے اشرار ہماری طرف کے اخیار سے اچھے ہیں اور اخیار کا کیا پوچھنا ہے ان کی تو نظیر اس طرف نہیں ملتی۔یہ بے تکلف اور سچے دیندار مسلمان ہیں۔مجلس وعظ معمور رہتی ہے۔وہ مولوی عبدالاحد صاحب لکھتے ہیں :- حضرت سید احمد صاحب قدس سرہ کے ہاتھ پر چالیس ہزار سے زیادہ ہندو وغیرہ، کفار مسلمان ہوئے اور تمیں لاکھ مسلمانوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اسی طرح آپ کے خلیفہ مولانا کرامت علی کی کوششوں سے بنگال میں لاکھوں آدمی مشرف با اسلام ہوئے۔جسے