مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 197
197 حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ولادت و حالات زندگی مکرم شاہ عبدالرحیم صاحب کے ہاں ساٹھ سال کی عمر تک کوئی اولاد نہ تھی۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ان میں سے سب سے بڑے بیٹے کا نام عظیم الدین شاہ تھا جو شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔آپ کی ولادت 4 شوال 1114ھ بمطابق 1703ء کو ہوئی۔شاہ صاحب کا نسبی سلسلہ حضرت فاروق اعظم تک پہنچتا ہے۔آپ کا خاندان کئی نسلوں سے خدمت دین پر مامور تھا۔علاوہ ازیں ان میں جہاد اور فن حرب کی قابلیت بھی تھی اور آپ کے اجداد عالمگیر کی فوج میں کار ہائے نمایاں سرانجام دے چکے تھے۔شاہ صاحب نے سات برس کی عمر میں قرآن حفظ کر لیا۔اس کے بعد فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔دس سال کی عمر میں شرح جامی تک پڑھ چکے تھے۔اور بعد ازاں تفسیر ، حدیث ، فقہ، منطق، فلسفہ تمام علوم کی تحصیل کی۔1142ھ میں مدینہ منورہ میں جا کر شیخ ابوطاہر مدنی سے جو اس زمانے کے تبحر عالم دین تھے، حدیث کا درس لیا اور سند حاصل کی۔شخصیت حضرت شاہ ولی اللہ جامع الکمالات بزرگ تھے۔علوم قرآن کے محقق ، محدث ، اسرار شریعت کے رمز شناس، فن اجتہاد کے ماہر، دقیق النظر فلسفی، ماہر عمرانیات وسیاسیات۔ان کے ساتھ ساتھ نقشبندیہ طریقہ کے پاک باطن صوفی ، معارف سے بہرہ ور ان کی خصوصیات کے باعث ابوالعلاء معری کا یہ شعر ان پر پوری طرح صادق آتا ہے۔انى و ان كنت اخیر زمانه لات بمالم تستطعه الاوائل ( ترجمہ ) اگر چہ میں زمانے کے آخری حصہ میں آیا ہوں مگر میں وہ کچھ لانے والا ہوں جن کی