مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 198 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 198

198 استطاعت پہلوں کو نہ تھی۔ان کی علمی فضیلت، مومنانہ فراست، صفائی ذہن، وسعت نظری، قوت بیان ، طرز استدلال، حقیقت افروز تصانیف دلنشین تحقیق و تنقیح وہ خصوصیات ہیں جو بہت کم مصلحین کے حصہ میں آئی ہیں۔اپنے بلند مقام کا اظہار خود یوں فرماتے ہیں فهمني ربي انا جعلناک امام هذه الطريقة ترجمہ: میرے رب نے مجھے سمجھایا ہے کہ ہم نے تجھے اس طریقہ کا امام بنایا ہے۔سے حالات زمانه بارھویں صدی ہجری مسلمانوں کے سیاسی زوال اور ذہنی انحطاط کا زمانہ تھا۔محی الدین عالمگیر کی وفات کے بعد سلطنت مغلیہ کا شیرازہ منتشر ہو رہا تھا۔فرخ سیر، محمد شاہ رنگیلا اور شاہ عالم وغیرہ برائے نام ہندوستان کے بادشاہ رہ گئے تھے۔درباری امراء ، وزراء اور والیان ریاست دشمنوں سے ساز باز میں مصروف اور ہوس اقتدار کا شکار تھے۔مرہٹوں نے ہر طرف شورش اور بدامنی پھیلا رکھی تھی۔دارالسلطنت دہلی اور اس کے نواح میں ان کا تسلط تھا اور یہاں مسلمانوں کے قتل عام کا بازار گرم تھا۔یہ لوگ مسلمانوں کو برصغیر سے نیست و نابود کرنے کا عزم کر چکے تھے۔ادھر انگریز جو تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے اور اب حکومت کے خواب دیکھ رہے تھے وہ کلکتہ سے خروج کر کے شمالی اور مغربی اضلاع کی طرف بڑھ رہے تھے۔علماء سوء سے قطع نظر علماء صالحین اس طوفان میں یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ مسلمان کی فلاح و نجات کیلئے کون سی راہ اختیار کرنی چاہیے اور کسے ترک کرنا چاہیے اور وہ بے بس تھے یہ سمجھنے سے کہ اسلام کے وقار اور اقتدار کو از سرنو قائم کرنے کیلئے کون سی تدبیر کارگر ہوسکتی ہے۔قوم کی تباہی میں فرقہ بندی اہم کردار ادا کرتی ہے۔مسلمانوں میں بھی فروعی اختلافات کا یہ حال تھا کہ ایک افغانی نے ایک آدمی کو نماز میں تشہد کی انگلی کھڑی کرتے دیکھا تو اس کی انگلی توڑ دی۔اسی طرح مذاہب اربعہ میں شدید اختلافات تھے اور معمولی معمولی باتوں پر مباحثے اور مناظرے ہوتے تھے جن کا نتیجہ سوائے فساد اور اختلاف بڑھنے کے کچھ نہ نکلتا تھا۔