مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 163 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 163

163 بلقینی اور حدیث میں ابن حجر کا رتبہ عطا فرما۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا سن لی اور موصوف کو بالا تفاق حافظ حدیث میں شمار کیا گیا ہے۔آپ نے سات علوم میں تبحر حاصل کیا۔خود کہتے ہیں :- علوم تفسیر، حدیث، فقہ، نحو، معانی اور بدیع میں مجھے عرب بلیغوں کے طریقہ پر نہ کہ حجم فلسفیوں کے طریقہ پر تبحر نصیب ہے۔سے علم تفسیر آپ نے تفسیر در منثور اور تفسیر جلالین کا نصف تحریر فرمایا۔یہ دونوں اعلیٰ پائے کی کتب ہیں۔امام صاحب اپنی تفسیر کے متعلق فرماتے ہیں :- میں نے ایک ایسی ہمہ گیر تفسیر تحریر کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے جو تفسیر کے متعلق ہر قسم کے ضروری مواد کی جامع ہوگی۔اس میں عقلی اقوال ، بلاغی نکات، صنائع بدائع ، اعراب و لغات، استنباطات و اشارات سبھی امور ہوں گے۔وہ تفسیر ایسی جامع ہوگی کہ دیگر تفاسیر سے بالکل بے نیاز کر دے گی۔اس کا نام میں نے مجمع البحرین و مطلع البدرین تجویز کیا ہے۔میری کتاب الاتفاق اسی تفسیر کا مقدمہ ہے“۔ہے آپ کی تفسیر در منثور ایک جامع کتاب ہے۔امام صاحب نے بخاری، مسلم، نسائی ، ترمذی، ابوداؤد، مسند احمد ، ابن جریر، ابن ابی حاتم عبد بن حمید، ابنابی الدنیا سے اخذ کر کے اس تفسیر میں روایات کا خاصہ ذخیرہ جمع کر دیا ہے اور یہ واحد تفسیر ہے جس میں صرف آثار و اقوال ہیں اور مؤلف کی ذاتی رائے بالکل نہیں ہے۔اسی طرح تفسیر جلالین آپ نے چالیس روز میں نصف اول کی تفسیر مکمل کر دی۔بقیہ نصف جلال الدین محلی نے لکھا۔علم حدیث آپ نے علم حدیث کی بھی بہت خدمت کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہو کر احادیث کی اصلاح کیا کرتے تھے۔چنانچہ ان کے بارے میں امام شعرانی کہتے ہیں:۔میں نے ایک ورق جلال الدین سیوطی کا دستخطی اُن کے ایک صحبتی عبدالقادر شاذلی