مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 164
164 کے پاس پایا جو کسی شخص کے نام ان کا خط تھا جس میں اس شخص نے ان سے بادشاہ وقت سے سفارش کی درخواست کی تھی اور امام صاحب نے اس کے جواب میں لکھا تھا کہ ”میں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تصحیح احادیث کیلئے جن کو محد ثین ضعیف کہتے ہیں حاضر ہونا ہوتا ہے۔چنانچہ اس وقت تک پچھتر (75) دفعہ حالت بیداری میں حاضر خدمت ہو چکا ہوں۔اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ میں بادشاہ وقت کے پاس جانے کے سبب اس حضوری سے رُک جاؤں گا تو ضرور قلعہ میں جاتا اور تمہاری سفارش کرتا“۔آپ خود فرماتے ہیں کہ ” مجھے دولاکھ احادیث یاد ہیں اگر کچھ اور حدیثیں ملتی تو میں انہیں بھی یاد کرلیتا ہے آپ کی کتاب توشیح شرح الجامع الصحیح کے بارہ میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ہیں :- (ترجمہ) یہ حافظ ابوالعصر ابوالفضل بن ابی بکر السیوطی کی تصنیف ہے۔اس کے دیباچہ کے آغاز میں وہ کہتے ہیں تمام تر تعریف اس ذات کی ہے جس نے اپنا احسان ہم پر کیا کہ ہم کو حاملین سنت میں بنایا۔یہ تعلیق صحیح الاسناد شیخ الاسلام امیر المومنین ابوعبداللہ البخاری کے بارے میں ہے جو کہ شیخ کے نام سے موسوم ہے اور امام بدرالدین زرکشی کی تعلیق مسمی بالتنقیح کی طرز پر ہے اور زوائد میں کئی باتوں میں اس پر فوقیت رکھتی ہے اور ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جو قاری اور سننے والے کیلئے ضروری ہیں۔مثلا صحت الفاظ، غریب باتوں کی تفسیر، اختلاف روایات کا بیان، ان اخبار میں زیادتی جو بخاری کے طریق میں بیان نہیں۔نیز اس ترجمہ کا بیان کرنا جس کے الفاظ میں کوئی حدیث مرفوع بیان ہوئی ہے۔ان معلقات کا وصل جن کو صحیحین میں موصلاً بیان نہ کیا گیا ہو۔مہم کا اظہار اور مشکل کا ایضاح اور مختلف احادیث کا جمع کرنا گویا استنباط کے علاوہ شرح میں سے کوئی چیز نہ رہے۔میں نے اس کا بھی ارادہ کیا ہے کہ تمام صحاح ستہ پر اس قسم کے حواشی لکھوں تا کہ اس سے نفع اندازی آسان ہو جائے اور بغیر دقت کے مطلب براری ہو سکے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اسے تکمیل تک پہنچائے۔1