مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 137 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 137

137 آؤ ہم لوگ مسجد کو ویران کر دیں اور اس میں شراب کی دکان قائم کر دیں۔اور منبر کو توڑ کر اس سے ساز و مزامیر بنالیں اور قرآن کو پھاڑ کر اس کی بانسری بنا ئیں اور قاضی کی داڑھی کو اکھاڑ کر اس کے تانت بنا ئیں۔پیروں کے نام کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں، قسمیں کھاتے ہیں۔بعض شیخ کوالہ کا درجہ دیتے ہیں۔قبروں کا باقاعدہ حج کرتے ہیں اور ان کے احکام کے متعلق تصانیف لکھی ہیں جن کا نام ” مناسک حج المشاہدہ ہے۔مسجدیں ویران ہیں اور مشاہد پر رونق ہیں اور وہ سونے چاندی سے مرصع ہیں۔یہ وہ اسلام تھا جس پر ساتویں آٹھویں صدی میں عملدرآمد ہورہا تھا اور امام ابن تیمیہ خدا سے تائید پا کر اٹھے اور اس کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔تجدیدی کارنامے جو حالات بیان کیے گئے ہیں ایسے حالات میں یوں تو کئی دلوں میں اسلام کیلئے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوا ہوگا لیکن امام ابن تیمیہ کی روح جس طرح بیقرار ہوئی اس کی مثال کم ہی ملے گی۔والدین سے جدائی اور اسیری کی صعوبتیں برداشت کیں۔معاندین کی لعن طعن بھی سنی لیکن اپنے فرائض میں کوتاہی نہ کی اور یہی ایک مجددکو زیبا ہے۔چنانچہ آپ میں جذ بہ تجدید کس حد تک تھا اس کا اندازہ آپ کے اس اقتباس سے ہوتا ہے جو اس خط سے لیا گیا ہے جو آپ نے اپنی والدہ کولکھا۔آپ لکھتے ہیں :- ( ترجمہ ) ان علاقوں میں ہمارا آج کل قیام ضروری امور کیلئے ہے۔جب بھی ہم ان میں غفلت کریں گے تو ہمارا دین و دنیا کا معاملہ خراب ہو جائے گا۔خدا کی قسم ہم نے آپ سے دوری کو جان بوجھ کر اختیار نہیں کیا اور اگر پرندے ہمیں اٹھا کر لے جائیں تو ضرور ہم آپ تک جا پہنچیں۔2 آپ کی تجدید دین چار حصوں پر مشتمل ہے۔۱۔عقیدہ توحید کی تجدید اور مشرکانہ رسومات کا ابطال۔-۲۔فلسفہ، منطق اور کلام پر تنقید۔کتاب وسنت کی افضلیت کا بیان۔۔غیر اسلامی فرق اور ملل کے عقائد سے اسلامی عقائد کا موازنہ۔- علوم شریعت کی تجدید اور فکر اسلامی کا احیاء۔