مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 107
107 ”اے خالی ہاتھ فقیر ! اے وہ جس سے تمام دنیا برگشتہ ہے۔اے گمنام، اے بھوکے پیاسے ننگے، جگر جھلسے ہوئے ، اے ہر مسجد و خرابات سے نکالے ہوئے، اے ہر درد سے پھٹکارے ہوئے ، اے وہ کہ ہر مراد سے محروم خاک پر پڑا ہے، اے وہ جس کے دل میں آرزوؤں اور ارمانوں کے پشتے لگے ہوئے ہیں مت کہہ کہ خدا نے مجھے محتاج کر دیا، دنیا کو مجھ سے پھیر دیا، مجھے پامال کر دیا، چھوڑ دیا، مجھ سے دشمنی کی، مجھے پریشان کیا اور جمعیت نہ بخشی اور مجھے ذلیل کیا اور دنیا سے میری کفایت نہ کی۔۔۔اے فقیر خدا نے تیرے ساتھ یہ برتاؤ اس لیے کیا کہ تیری سرشت میارز میں (کے مثیل ) بے ریت ہے اور رحمت حق کی بارشیں تجھ پر برابر ہورہی ہیں۔از قسم صبر ورضا و یقین و موافقت وعلم اور ایمان و توحید کے انوار تیرے گردا گرد ہیں۔اس نے آخرت میں تجھ کو مقام بخشا ہے اور اس میں تجھ کو مالک بنایا ہے۔اور عقبی میں تیرے لیے اتنی کثرت سے برکتیں رکھی ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھیں ، نہ کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں گزریں۔اے تعلیمات نفس انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور یہ چھپ کر وار کرتا ہے۔آپ نے نفس کشی کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا:- یا درکھو کہ دل کی کدورت نہیں جاسکتی تا وقتیکہ نفس کی کدورت دور نہ کی جائے۔جب تک کہ نفس اصحاب کہف کے کتے کی طرح رضا کے دروازے پر نہ بیٹھ جائے اس وقت تک دل میں صفائی پیدا نہیں ہوسکتی۔اس وقت یہ خطاب بھی ملے گايأيتها النفس المطمئنه الخ یعنی اے نفس مطمئنہ نہایت خوش و خرم ہو کر اپنے پروردگار کی طرف چلا جا۔اس وقت وہ حضرت القدس میں بھی باریابی حاصل کر سکے گا اور تو جہات و نظر رحمت کا کعبہ بنے گا۔اس کی عظمت، اس کا جلال اس پر منکشف ہوگا اور مقام رفیع اعلیٰ سے اس کو سنائی دینے لگے گا یا عبدی و كل عبدى انت لي و انا لک“۔بروز کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا "هذا وجود جدى محمد ال لا وجود عبدالقادر “۔۲۳ صلى الله