مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 106 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 106

106 خلاف نبرد آزما رہے آج لوگ ان کی قبر پر جا کر مشرکانہ افعال کرتے ہیں اور مستزاد یہ ہے کہ ان کی طرف مشرکانہ عقائد منسوب کر رکھے ہیں۔جیسے آپ کا عزرائیل سے روحوں کا تھیلا چھین کر روحیں آزاد کر دینا اور کئی سال کی ڈوبی ہوئی کشتی کو مع مسافروں سمیت دوبارہ نکال دینا اور تمام مسافروں کا زندہ سلامت نکلنا۔یہ سراسر ان کی تعلیمات کے خلاف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ہم ایسی خرافات کو بالکل تسلیم نہیں کرتے اور یہ ان ہستیوں پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔اس لیے ایسے واقعات کو ظاہری رنگ میں ہرگز تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔کیونکہ ایسا کرنا نصوص کے خلاف ہے۔تاہم اگر ان کو کشف وغیرہ تسلیم کیا جائے تو اندریں صورت ان کو قبول کیا جاسکتا ہے۔آپ نے معمولی باتوں کو بھی شرک کا حصہ سمجھا ہے اور توحید کی گہرائی میں جاتے ہوئے فرماتے ہیں:۔آج تو اعتماد کر رہا ہے اپنے نفسوں پر مخلوق پر، اپنے دیناروں پر ، اپنے درہموں پر، اپنی خرید و فروخت پر ، اپنے شہر کے حاکم پر، ہر چیز کہ جس پر تو اعتماد کرے وہ تیرا معبود ہے اور ہر وہ شخص جس سے تو خوف کرے یا توقع رکھے وہ تیرا معبود ہے اور ہر شخص جس پر نفع و نقصان کے متعلق تیری نظر ہو اور تو یوں سمجھے کہ حق تعالیٰ ہی اس کے ہاتھوں اس کا جاری " کرنے والا ہے تو وہ تیرا معبود ہے۔19 آپ کی ساری زندگی شرک کے خلاف جہاد میں گزری۔حتیٰ کہ مرض الموت میں اپنے صاحبزادے عبدالوہاب کو یوں وصیت کی :- ہمیشہ خدا سے ڈرتے رہو اور خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرو اور نہ اس کے سوا کسی سے امید رکھو اور اپنی تمام ضروریات اللہ کے سپرد کر دو صرف اسی پر بھروسہ رکھو اور سب کچھ اُسی سے مانگو توحید اختیار کرو۔ع شکستہ دلوں کیلئے موجب راحت آپ نے مردہ دلوں میں حیات نو بخشی۔آپ کی زبان جادو اور قلم سحر تھا۔آپ کے دل میں دوسروں کیلئے تڑپ تھی۔آپ کس در دول کے ساتھ بھٹکے ہوؤں کو صنم سے ملنے کی دعوت دیتے ہیں۔