مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے

by Other Authors

Page 108 of 401

مجدّدین اُمّتِ محمدیہ اور اُن کے تجدیدی کارنامے — Page 108

108 آپ ذکر الہی اور دعاؤں میں خود بھی مشغول رہتے اور دوسروں کو بھی تلقین کرتے۔آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔اللهم انا نعوذ بوصلك من صدک و بقربک من طردک و بقبولک من رڈک واجعلنا من اهل طاعتک و وڈک و اهلنا لشکرک و حمدک یا ارحم الراحمین“۔۲۴ ( ترجمہ ) اے اللہ ہم تیرے رڈ کرنے سے تیرے وصل کی اور تیرے دھتکارنے سے تیرے قرب کی اور تیرے رڈ کرنے سے تیرے قبول کرنے کی پناہ چاہتے ہیں۔اے اللہ ہمیں اپنی عبادت اور کامل محبت کا اہل بنا اور ہمیں اپنے شکر اور حمد کے مقام پر نازل کر۔یا ارحم الراحمین۔قبولیت دعا اور مقبولان الہی کی پہلی علامت استجابت دعا ہے۔چنانچہ صرف ایک واقعہ آپ کی قبولیت دعا کا درج کیا جاتا ہے۔ایک مجذوم کے پاس سے گزرے اس کے جسم سے کیڑے ٹپکتے تھے اور خون اور پیپ اس کے جسم سے بہتا تھا اور اطباء اس کے علاج سے عاجز ہو گئے تھے۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے پروردگار تو اسے عذاب دینے سے بے پرواہ ہے تو اس کو صحت عطا فرما۔چنانچہ وہ تندرست ہو گیا“۔ہے راست گوئی جیسا کہ ذکر گزر چکا ہے کہ راستبازی آپ کی فطرت ثانی تھی۔اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں: تم ہر حال میں سچائی اور نیک نیتی اختیار کرو اور یاد رکھو کہ اگر یہ دونوں باتیں نہ ہوتیں تو کسی شخص کو تقرب الی اللہ حاصل نہ ہوتا۔دیکھو اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے اذا قلتم فاعدلوا جب تم بات کہو تو انصاف کی کہو اور سچ بولا کرو۔۲۶